صدر مشرف اتوار سے دورہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اتوار سے یورپ کے نو روزہ دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جس کے دوران توقع کی جا رہی ہے کہ انہیں اپنی پالیسیوں پر مغربی دنیا کے تندو تیز سوالات اور تنقید کا سامنا رہے گا۔ فوجی عہدہ چھوڑنے اور بطور سویلین صدر حلف لینے کے بعد یہ ان کا پہلا غیرملکی دورہ ہے۔ آخری غیرملکی دورہ انہوں نے سعودی عرب کا کیا تھا جس کے چند ہفتوں بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی ممکن ہوسکی تھی۔ اٹھارہ فروری کو عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات، پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت، شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے اور جوہری اثاثوں سے متعلق مغربی دنیا کے خدشات کے تناظر میں اس دورے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ سفارتی تـجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر یورپی حکومتوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ حالات میں تسلسل ہی پاکستان کے لیئے بہتر ہے اور اس کے لیئے ان کی اقتدار میں موجودگی کلیدی ہے۔ صدر مشرف بیس سے اکیس جنوری تک یورپی یونین اور بلجیم کا دورہ کریں گے، اکیس سے بائیس جنوری تک فرانس جبکہ تئیس سے پچیس جنوری تک عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وہ چھبیس جنوری سے برطانیہ کا تین روزہ دورہ کریں گے۔
صدر مشرف برسلز میں یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے سربراہ ہاویئر سولانا سمیت یونین کے رہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ وہ یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی سے خطاب بھی کریں گے۔ یورپی یونین نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ساتھ مجموعی سالانہ تجارت کا حجم نو ارب ڈالر ہے بلکہ وہ پاکستان میں سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار بھی ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تھرڈ جنریشن تعاون کا ایک معاہدہ گزشتہ سال ہی نافذ ہواتھا۔ صدر مشرف برسلز میں اپنے قیام کے دوران بلجیم کے وزیراعظم گائے ور ہوفسٹڈ سے ملاقات بھی کریں گے۔ بلجیم یورپی یونین میں پاکستانی مصنوعات کا چھٹا بڑا خریدار ہے اوردوطرفہ تجارت کا حجم 60 کڑوڑ ڈالر ہے۔ صدر مشرف برسلز میں پاکستانی کمیونٹی ، تاجر رہنماوں اور ایک اہم تھنک ٹینک سے بھی خطاب کریں گے۔ دورہ فرانس کے دوران صدر مشرف فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کے ساتھ ملاقات کے علاوہ فرانس کے تاجر رہنماوں، پاکستانی کمیونٹی اورتھنک ٹینک سے خطاب کریں گے۔ فرانس کے ساتھ پاکستان کی دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر ہے۔ ڈیووس میں صدر مشرف عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اپنے دورے کے آخری حصے میں صدر دورہ برطانیہ کے دوران وزیراعظم گورڈن براون سے ملاقات کریں گے۔ اگرچے حکومت کی جانب سے ایسی کسی ملاقات کے بارے میں تردید سامنے آ چکی ہے لیکن مقامی اخبارات میں اس قسم کی خبریں تواتر سے شائع ہو رہی ہیں کہ صدر کی مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف سے لندن میں قیام کے دوران ملاقات کا امکان موجود ہے۔ شہباز شریف علاج کی غرض سے لندن میں ہیں۔ | اسی بارے میں پریشانی کی کوئی وجہ نہیں: مشرف18 January, 2008 | پاکستان پاکستان: ’منصفانہ الیکشن کے آثار کم‘17 January, 2008 | پاکستان برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف02 January, 2008 | پاکستان استعفے کو ترجیح دوں گا: مشرف11 January, 2008 | پاکستان پاکستان میں آٹا سستا ہے: مشرف14 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||