BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 February, 2008, 02:29 GMT 07:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کے ساتھ کام کا عزم
کونڈولیزا رائیس (فائل فوٹو)
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کچھ ایسے سمجھوتے بھی ہیں جن کی منظوری صدر مشرف نے دی ہے
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پرزور طریقے سے کہا ہے کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے گا۔

رائس نے افریقہ کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں انہوں صدر مشرف کو ایک ہی پیغام دیا تھا کہ ایمرجنسی ہٹائیں، وردی اتاریں اور اپنے ملک کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی طرف لے جائیں اور ’انہوں نے بالکل ویسا ہی کیا ہے‘۔


کونڈولیزا رائیس کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کے بعد پاکستان میں کس طرح کی حکومت بنتی ہے یہ پاکستان کا اپنا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے صدر پرویز مشرف ہیں اور وہی ہیں، اس لیے یقینی طور پر ہم انہی کے ساتھ کام کریں گے‘۔

مشرف سے منظوری
 جمعہ کو نیویارک ٹائمز نے یہ بھی خبر شائع کی تھی کہ پچھلے کچھ مہینوں میں امریکہ نے ان علاقوں میں ڈرون جہازوں کی مدد سے ان علاقوں میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کو تیز کرنے کی منظوری لے لی تھی۔ فی الحال کسی اہلکار نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے
کونڈولیزا رائس کا یہ بیان مسلم لیگ(ن) کے ترجمان کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو اب صدر مشرف کی حمایت کرنا چھوڑ دینا چاہیے اور اگر امریکہ ایسا نہیں کرتا ہے تو انہیں لگے گا کہ امریکہ کو پاکستان کے عوام کی امنگوں اور رائے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے وائٹ ہاوس کی ترجمان نے ایک بیان دیا تھا کہ پاکستان کو صدر مشرف کی ضرورت ہے یا نہیں یہ وہاں کی عوام کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن کونڈولیزا رائیس کے بیان سے ظاہر ہے کہ امریکہ فی الحال صدر مشرف سے ہاتھ نہیں چھڑوانا چاہتا۔

امریکہ میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ کچھ ایسے سمجھوتے بھی کیے ہوئے ہیں جن کی منظوری صدر مشرف نے دی ہے اور جو خاص طور پر قبائلی علاقوں کے بارے میں ہیں۔

جمعہ کو نیویارک ٹائمز نے یہ بھی خبر شائع کی تھی کہ پچھلے کچھ مہینوں میں امریکہ نے ان علاقوں میں ڈرون جہازوں کی مدد سے ان علاقوں میں مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کو تیز کرنے کی منظوری لے لی تھی۔ فی الحال کسی اہلکار نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے فیصلوں کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے نہ رہنے سے مشکلات پیش آئیں گی۔

اسی بارے میں
پی پی کی ترجیحات کا اعلان
22 February, 2008 | پاکستان
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد