بلوچستان: پی پی پی کی واضح اکثریت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے پانچ اراکین اور مسلم لیگ قائد اعظم کے چار اراکین کی طرف سے پیپلز پارٹی کی حمایت کے اعلان کے بعد پیپلز پارٹی عددی لحاظ سے بلوچستان میں حکومت بنانے کے قابل ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ قائد اعظم کے چار اراکین اسمبلی، سابق ڈپٹی سپیکر اور موجودہ نگراں وزیر اعلی کے بھائی اسلم بھوتانی، روبینہ عرفان، حمل کلمتی اور بسنت لعل گلشن نے سنیچر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان اراکین میں ایک خاتون اور ایک اقلیتی امیدوار مخصوص نشستوں پر گزشتہ روز ہی مسلم لیگ کی طرف سے نامزد ہوئے ہیں۔ سابق ڈپٹی سپیکر اسلم بھوتانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت اتنے عرصے میں وزارت اعلی کے امیدوار کا اعلان تک نہیں کر پائی جس وجہ سے صوبے میں ایک بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین گزشتہ روز ہی کوئٹہ میں اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کرکے یہ کہہ کر واپس لاہور چلے گئے تھے کہ ایک دو روز میں وزارتِ اعلٰی کا امیدوار نامزد کر دیا جائے گا۔ اس سے پہلے بلوچستان نینشل پارٹی عوامی کے پانچ اراکین نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔ یاد رہے بی این پی عوامی سابقہ دور میں جمعیت علماء اسلام کے ساتھ مسلم لیگ کی حلیف جماعت رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو اس وقت تینتیس سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ پینسٹھ اراکین کے ایوان میں تینتیس ارکان کی ہی ضرورت ہے۔ اس وقت جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کی اہمیت میں کافی حد تک کمی واقع ہو گئی ہے اور ہو سکتا ہے کہ جمعیت اب حزب اختلاف میں مسلم لیگ قائد اعظم کا ساتھ دے۔ | اسی بارے میں پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: حکومت سازی کے مذاکرات01 March, 2008 | پاکستان بلوچستان: حکومت سازی کے مذاکرات24 February, 2008 | پاکستان بلوچستان :پی پی کو مزید حمایت05 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||