این اے 202، دوبارہ پولنگ کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے حلقے این اے دو سو دو میں اٹھارہ پولنگ سٹیشنوں اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس بارہ کے سترہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ احکامات پاکستان پیپلز پارٹی کے اُمیدوار آفتاب شعبان میرانی کی اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران ان کے حلقے میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف درخواست کو منظور کرتے ہوئے دیے۔ جسٹس نواز عباسی کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ اس حلقے کے مذکورہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کروانے کے سلسلے میں اقدامات کرے۔ آفتاب شعبان میرانی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور حکومت میں وزیر دفاع بھی رہے اور انہوں نے ان انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں اٹھارہ پولنگ سٹیشنوں پر دھاندلی کے بارے میں ثبوت بھی فراہم کیےگئے تھے جس پر الیکشن کمیشن نے ان پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کروانے کے احکا مات جاری کیے تھے۔ جس پر اس حلقے سے کامیاب ہونے والے نیشنل پیپلز پارٹی کے ابراہیم جتوئی نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سندہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کو ان پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ انتخابات کروانے سے روک دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا ۔ اسی بینچ نے حلقہ این اے بیس میں دوبارہ انتخابات کروانے کےلیے پاکستان مسلم لیگ نواز کے اُمیدوار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی کی درخواست مسترد کردی ہے۔ قومی اسمبلی کے اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ قاف کے اُمیدوار شاہجہان یوسف نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ادھر چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بلوچستان کے علاقے لسبیلہ سے اُمیدوار قومی اسمبلی غلام اکبر لاسی پر عائد نااہلی کی شرط ختم کردی ہے اور اب وہ کسی بھی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ کے اُمیدوار اور سابق وزیر اعلی صوبہ بلوچستان جام یوسف کامیاب ہوئے ہیں۔ غلام اکبر لاسی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی نااہلی پانچ سال سے زائد نہیں ہوتی اس لیے ان کے موکل کے خلاف یہ شرط اب ان پر عائد نہیں ہوتی۔عدالت نے غلام اکبر لاسی پر یہ پابندی غیر موثر قرار دے دی۔ واضح رہے کہ نیب کے ایک کیس میں غلام اکبر لاسی پر دس سال کے لیے کسی بھی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ غلام اکبر لاسی پیپلز پارٹی کے آخری دورحکومت میں وزیر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ | اسی بارے میں پنڈی کا حلقہ خصوصی اہمیت کا حامل24 April, 2008 | پاکستان الیکشن : بی اے ڈگری کی شرط ختم21 April, 2008 | پاکستان ضروری ہوا تو وزیراعظم: زرداری 19 April, 2008 | پاکستان ’راولپنڈی سے انتخاب لڑوں گا‘19 April, 2008 | پاکستان ’بی اے کی شرط امتیازی قانون ہے‘18 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||