BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 April, 2008, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’راولپنڈی سے انتخاب لڑوں گا‘

انتخابی کوشش کے ساتھ ساتھ اعتزاز بار کونسل کے صدر رہیں گے
بیرسٹر اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اعتزاز احسن نے یہ بھی کہا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

انہوں نے اس بات کا اعلان سنیچر کو لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں کے علاوہ کراچی بارایسوسی ایشن کے سیکرٹری نعیم قریشی بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ اعتزاز احسن نے سابق وفاقی وزیر شیر افگن نیازی کے ساتھ لاہور میں پیش آنے والے واقعہ پر سپریم کورٹ بار کی صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے استعفیٰ واپس لینے کا فیصلہ ملک بھر بار ایسوسی ایشنوں اور بارکونسلوں کے اصرار پر کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کی تہتر بار ایسوسی ایشنوں نے اپنی اپنی سطح پر قراردادوں کے ذریعے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر اعتزاز احسن نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان واپس نہ لیا تو وکلاء تنظیموں کے عہدیدار بھی اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

ادھر جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان بار کے تین وکلاء نے استعفیٰ کی واپسی کے لیے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وکلاء برادری کےفیصلہ کے سامنے مجبور ہوکر مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لیا ہے کیونکہ وہ وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں کو مستعفی کراکر صدر پرویز مشرف کو اپنی مرضی کی تحریر لکھنے کے لیے خالی تختی نہیں دینا چاہتے ہیں۔

جاوید ہاشمی کی نشست
 اعتزاز احسن نےاعلان کیا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ٹکٹ کے لیے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کو درخواست دے دی ہے۔ ان کہنا تھا کہ وہ راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ پچپن سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں جہاں سے مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی نے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ قاف کے رہنما شیخ رشید کو شکست دی تھی۔
اعتزاز احسن نےاعلان کیا کہ وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ٹکٹ کے لیے اپنی جماعت پیپلز پارٹی کو درخواست دے دی ہے۔ ان کہنا تھا کہ وہ راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ پچپن سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں جہاں سے مسلم لیگ نون کے جاوید ہاشمی نے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ قاف کے رہنما شیخ رشید کو شکست دی تھی۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مشترکہ امیدوار ہونگے۔

اعتزاز احسن نے بتایا کہ وکلاء قیادت کے فیصلہ کی وجہ سے انہوں نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا کیونکہ اس وقت نہ تو پارلیمان تھی اور نہ جمہوریت لیکن اب ایک ایسی پارلیمان موجود ہے جس نے غیرفعال ججوں کی نظربندی ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری آصف علی زرداری کے پاس بینظیر بھٹو کی ہلاکت پر تعزیت کے لیے گئے اور اس پچیس منٹوں کی تعزیت کے دوران قومی مفاہمتی آرڈیننس سمیت کسی دوسرے معاملہ پر بات نہیں ہوئی۔ان کے بقول اس قسم کی باتیں وکلاء تحریک کو بدنام کرنے کوششوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہماری روایات کے مطابق کسی کے پرسے کے لیے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے دوتہائی اکثریت کے ذریعے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے۔ جج پارلیمان کی قرارداد سے بحال ہونگے اور یہ قرارداد وکلاء تحریک سے متصادم نہیں ہے۔

اعتزاز احسن نے وضاحت کی کہ اعلیٰ عدلیہ کے جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا وہ آج بھی جج ہیں اور ان کے بقول ان ججوں کو صرف اپنے فرائض سرانجام دینے کے سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ آئندہ ہفتے پارلیمان اعلان مری پر عملدرآمد کرنے کا امکان ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ سپریم کورٹ بار کے صدر کی حیثیت سے ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے اور ان کی بار کی صدارت ان کے انتخاب کے راستے میں رکاوٹ نہیں ہے، لہذا وہ سپریم کورٹ بار کی صدرات سے مستعفی نہیں ہونگے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان بارکونسل کے نومنتخب وائس چیئرمین سعید اختر نے بیان دیاہے کہ اعتزاز احسن کو انتخاب نہیں لڑیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سعید اختر کی ذاتی رائے ہے جس سے وہ متفق نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ انہوں نے وکلاء تحریک کے قائدین اور سینئر وکلا سے مشاورت کے بعد کیا ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وکلاء دو نومبر والی عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں اور اگر پی سی او کے تحت حلف لینے والے جج اس عدلیہ کا حصہ رہتے ہیں تو انہیں کوئی اعتزاض نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صدر پرویز مشرف نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا آئینی اختیار کا استعمال کیا تو وکلاء پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ پارلیمان کی بحالی کے لیے تحریک چلائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد