’عدلیہ بحال کرنا دشوار نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ دو نومبر کی صورتحال کو بحال کرنا بالکل دشوار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے کسی ترمیم یا حکمنامے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اتنا کافی ہے کہ ان ججوں پر سے پولیس کا پہرا ہٹا دیا جائے اور یہ عدالتوں میں اپنا کام اسی طرح شروع کر دیں جس طرح وہ تین نومبر سے پہلے کر رہے تھے۔ ’یہ جج بحال ہیں، نکالے ہی نہیں گئے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک جرنل کا حکم آئین نہیں بن سکتا اور غیر آئینی حکم کے خاتمے کے لیے ترمیم کی ضرورت نہیں۔ اعتزاز احسن نے سنیچر کی صبح بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بارہ مئی کے واقعے کے بارے میں کراچی بار میں دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’بھول جانے سے مراد یہ نہیں ہے کہ احتساب نہیں ہونا چاہیے، قانون کی بالادستی نہیں ہونی چاہیے، مجرموں کو قانون کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ میرا مطلب ہے کہ ایک چیز سے ’اوبسسڈ‘(obsessed) نہیں ہونا چاہیے، ہم نے اور کام بھی تو کرنے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ جو پرویز مشرف کی عدلیہ ہے انہوں نے وہ توہین عدالت کا کیس ہی خارج کر دیا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ اس کو فراموش کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے چالیس پینتالیس لوگوں کو شہید کیا انہیں قانون کے آگے جوابدہ ہونا چاہیے۔ برطرف کیے گئے ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ کامیاب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کو بلانے میں تاخیر کی جا رہی ہے، اصل میں تو اس وقت صدارتی عناصر ہیں ایوان صدر کے، وہ اور کچھ امریکی اور برطانوی اپنے تئیں مثبت نتائج نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہی سنتے ہیں کہ صدارتی لوگ اور کچھ سفارتی لوگ ہانڈی پکانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ نئی پارلیمان کے سامنے سب سے اہم مسئلہ ججوں کی بحالی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری اور ان کے بچوں کے علاوہ سات ججوں کو گرفتار کر کے رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی سیدھا سا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر آئینی اقدام کو درست کرنے کے لیے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو آئینی ترمیم کی بات کرتا ہے وہ دراصل کہہ رہا کہ ’پرویز مشرف نے جو بھی جرم کیا وہ آئین کا حصہ بن گیا ہے‘۔ اعتزاز احسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے آئینی ترمیم کی بات کرنا ایسا ہی کہ ایک چور سے گاڑی برآمد ہونے کے بعد سمجھا جائے کہ گاڑی چور کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر ڈاکہ پڑا ہے جس کے مالک عوام ہیں اور ان کی چیز ان کو واپس ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کا تین مارچ کا اقدام غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوں کی توں جو صورتحال ہے دو نومبر کی اس کو بحال کرنا کچھ دشوار نہیں۔ ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’وہ بحال ہیں، وہ نکالے ہی نہیں گئے، آپ نے راہداری دینی ہے عدالت میں جانے کے لیے وہاں بیٹھنے کے لیے‘۔ | اسی بارے میں بارہ مئی بھول جائیں: اعتزاز احسن05 March, 2008 | پاکستان اعتزاز بیان واپس لیں: کراچی بار06 March, 2008 | پاکستان کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان ہنگاموں کی کوریج، ’آج‘ پر فائرنگ12 May, 2007 | پاکستان کس کے کتنے ہلاک ہوئے؟12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||