BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ مئی بھول جائیں: اعتزاز احسن

اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے بدھ کی صبح سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کیا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے وکلاء کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بارہ مئی کو پیش آنے والے واقعے کو بھول جائیں اب یہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔

گزشتہ سال بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اعتزاز احسن بھی کراچی ایئرپورٹ پہنچے تھے مگر انہیں صوبہ بدر کردیا گیا تھا، تقریباً ایک سال کے بعد وہ منگل کی شب کراچی پہنچے اور بدھ کی صبح سندھ ہائی کورٹ بار کو خطاب کیا۔

اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا ’جب میں کراچی بار آنا چاہتا تھا، تو ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے کراچی کو خون کی ہولی میں لپیٹ لیا، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کو اسے بھلا دیں تو بہتر ہے، کراچی روشنیوں کا شہر ہے اب یہ واقعہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔‘

سپریم کورٹ بار کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کو بھولنا چاہتے ہیں مگر انہیں معلوم ہے کہ زخم اور گھاؤ گہرے تھے لیکن بار اور وکلاء نے جو عظیم اور دلیرانہ جدو جہد کی ہے وہ اس سانحے کا موثر جواب تھا۔

اعتزاز احسن نے بتایا کہ نظر بندی کے دوران انہیں ججوں کی بحالی کے حوالے سے کئی فارمولے پیش کیے گئے مگر بندشوں کی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورت نہیں کرسکے تھے۔ ’پہلا فارمولا آیا کہ چوالیس میں سے چالیس جج لے لیں، جسٹس صبیح الدین احمد، جسٹس طارق پرویز،جسٹس خلیل رمدے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو چھوڑ دیں۔میں نے کہا کہ آپ نے اگر چالیس جج بحال کرالیے تو آپ کا وقار بلند ہوجائےگا، مگر میں نے انکار کیا اور کہا کہ یہ تینتالیس جج پی سی او کے جج کہلائیں گے اور مجھے شریف الدین پیرزادہ کا لقب مل جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ بعد میں تین ججوں کو چھوڑنے، پھر دو ججوں کو چھوڑنے اور آخر میں صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو چھوڑنے کے فارمولے لائے گئے مگر وہ ان کو انکار کرتے رہے۔ اعتزاز احسن کے مطابق ’میں نے انہیں بتایا کہ یہ پیشکشن تو کربلا میں اکہتر کے پاس بھی تھی کہ امام حسین کو چھوڑ دو ہمیں صرف حسین کا سر چاہیے۔‘

اعتزاز احسن نے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے حوالے سے کہا کہ قانونی الجھنوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے یہ فوجداری مقدمہ ہے، پاکستان پینل کوڈ کے تحت ایف آئی آر ہونی چاہیئے’میں یہ مقدمہ دائر کرنا چاہتا تھا مگر وکلاء نے اسلام آباد میں یہ مقدمہ دائر کرلیا ہے۔ شوکت عزیز، جس کے مشورے پر ججوں کی گرفتاریاں ہوئیں اور محمد میاں سومرو جن کے مشورے پر یہ گرفتاریاں چل رہی ہیں اور جنرل مشرف کو اس ملک میں اسی سال سزائیں تجویز ہوں گی۔اور آرٹیکل 248 سے ہم نمٹ لیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ کسی بادشاہ، شہنشاہ، سلطان، قیصر، سیزر، فرعوں، اور نمرود نے بھی کبھی ساٹھ ججوں کو گرفتار نہیں کیا ’یہ کہتے ہیں سب قانونی اور آئینی ہے۔ مگر کس قانون کے تحت یہ اقدامات اٹھائے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا پاکستان کے عوام نے اٹھارہ فروری کو پرویز مشرف کو برطرف کردیا ہے، وہ خارجی دروازے پر کھڑے ہیں، ان کے ساتھ کوئی نہیں۔ کیوں امریکی اور برطانوی حکومتیں انہیں جلا بخشنے کی کوشش کر رہی ہیں؟‘

اعتزاز احسن نے واضح کیا کہ وہ پارلیمنٹ کو مقتدر اور مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ پرویز مشرف سمیت ان تمام طاقتوں کے خلاف ہیں جنہوں نے پارلمینٹ کو محکوم اور زیردست رکھا ہے۔ ’گزشتہ پارلمینٹ کے پاس اتنا بھی اختیار اور اقتدار نہیں تھا جو خود فیصلہ کرسکے کہ پاکستان کا وزیراعظم کون ہوگا، پہلے ظفر اللہ جمالی کو لایا گیا بعد میں چالیس دن کے لیے شجاعت حسین کو وزیراعظم بنایا گیا اور آخر شوکت عزیز کو لایا گیا۔‘

اسلام آباد کی ججز کالونی میں نظر بند معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ گھر کی عمارت کے اندر پانچ افراد نظر بند ہیں، گھر کی دیوار کے دوسرے طرف پی سی او کے تحت بننے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا گھر ہے’ میں ان سے پوچھتا ہوں ان بچوں کو چار ماہ قبل تک آپ بھتیجے اور بھتیجیاں کہتے تھے اور اب ان کو حبس بے جا پر حکم جاری کیا۔

اس سے قبل چودھری اعتزاز احسن کا سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا اور ان پر پھول نچھاور کیے گئے۔ پیمرا نے ان کی تقریر لائیو ٹیلی کاسٹ کرنے پر پابندی عائد کردی۔

اعتزاز احسن کا بیاناعتزاز احسن کا بیان
’بحالی کے لیے نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘
اسی بارے میں
کس کے کتنے ہلاک ہوئے؟
12 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد