BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 March, 2008, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چیف جسٹس کی نظر بندی پر مقدمہ‘

اعتزاز احسن
اعتزاز احسن کو ایک روز پہلے رہا کیا گیا تھا
پاکستان سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے اہلخانہ کی غیر قانونی حراست پرمقامی پولیس افسر سے لے کرصدر مشرف تک کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت کیس مقامی تھا نے میں درج کرائیں گے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو اپنی رہائش گاہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ مقدمہ میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو، وفاقی وزیر داخلہ، کمشنراسلام آباد، انسپکٹر جنرل پولیس سمیت تمام متعلقہ پولیس افسروں کو نامزد کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر تعزیرات پاکستان کی دفعات بھی گنوائیں اور کہا کہ یہ مقدمہ قابل دست اندازی پولیس ہے اور پولیس کسی وارنٹ کے بغیر گرفتاری عمل میں لاسکتی ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ ملزموں کو گرفتار کرے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ آئین کی دفعہ دو سو اڑلتالیس کے تحت صدر مشرف کو اسثتثنیٰ حاصل ہے اور اسے ملحوظ خاطر رکھ کر ہی ایف آئی آر کٹوائی جائے گی لیکن انہوں نے کہا کہ ’ہم پوری کوشش کریں گے اور صدر مشرف کو اس جرم سے بچنے نہیں دیں گے۔‘

 انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی ایک ایف آئی آر ان دیگر سات ججوں کے سلسلے میں درج کروائیں گے جو تاحال زیر حراست ہیں۔ سپریم کورٹ کے صدر نے اس کے علاوہ اربوں روپے کے حرجانے کے دعوی بھی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ہرجانے کی رقوم مخالف فریق کی ذاتی املاک سے وصول کی جائیں گی۔

ایک سوال کےجواب میں انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے ایمرجنسی لگانے، آئین کو معطل کرنے اور ججوں کو حراست میں لینے کے اقدامات کی اگر پارلیمان کی دو تہائی اکثریت نے توثیق نہ کی تو ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ پہلے حکومت چیف جسٹس کو حراست میں رکھے جانے کو تسلیم نہیں کرتی تھی لیکن اب اس نے سینیٹ میں بھی تسلیم کرلیا ہے اور دیگر فورم پر بھی انہیں حراست میں رکھے جانے کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا چیف جسٹس کےسسر غلام رسول بھی پانچ گھنٹے کی منت سماجت کے بعد اپنے نواسوں اور بچوں سے مل سکے ہیں۔

سپریم کورٹ کے صدر اعتزاز احسن کی نظر بندی ایک روز پہلے ہی ختم ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا رہائی کے بعد وہ اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کرانے کے بعد وہ گڑھی خدابخش جا رہے ہیں جہاں انہوں نے محترمہ بے نظیر کی قبر پر فاتحہ خوانی کرنی ہے۔ اس کے بعد وہ کراچی سے ہوتے ہوئے اسلام آباد جائیں گے اور وہاں وہ چیف جسٹس اور ان کے بچوں کی چار ماہ کی غیر قانونی حراست کے خلاف ایف آئی آر (ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ) کٹوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح کی ایک ایف آئی آر ان دیگر سات ججوں کے سلسلے میں درج کروائیں گے جو تاحال زیر حراست ہیں۔ سپریم کورٹ کے صدر نے اس کے علاوہ اربوں روپے کے ہرجانے کے دعویٰ بھی کرنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ہرجانے کی رقوم مخالف فریق کی ذاتی املاک سے وصول کی جائیں گی۔

انہوں نے چیف جسٹس اور ان کے بچوں کی حراست کو ایک شرمناک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ دنیا کی تاریخ میں کسی بادشاہ ،کسی قیصر، کسی سیزر، کسی فرعون نے یہ کام نہیں کیا جو اس دور میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ ججوں کی حراست کا واقعہ پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔ان کے بقول یہ ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی چیف جسٹس اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ دراصل ان کے استعفی کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور تعزیرات پاکستان کے تحت یہ بھی قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔

پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ جج صاحبان بھی اسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں خار دار تاریں لگا کر اور نفری کھڑی کرکے ججوں کو نظر بند رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’جو جج چیف جسٹس کو نہ چھڑا سکے ان کی حبس بے جا کا نوٹس نہ لے سکے وہ ہمارے حق میں کیا کرسکتےہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے بعد ان ججوں کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کرے گی اور یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کس جج کو رکھنا ہے اور کس کو نکالنا ہے۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے پارلیمان کے کسی اقدام کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف وزیر داخلہ ،انسپکٹر جنرل پولیس کو بلا کر دو منٹ کی میٹنگ میں یہ ہدایات جاری کردے کہ ججوں کو ان کی عدالتوں تک جانے دو تو وہ کافی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پارلیمان کے کسی ایسے اقدام کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کو مہلت دینا چاہیے اور اسی لیے انہوں نے لانگ مارچ مؤخر کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا اور پھر وکلاء چاروں سمت سے اسلام آباد میں داخل ہونگے۔انہوں نے کہا صدر مشرف اب جانے والے ہیں اور وہ اس دروازے پر کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے ’باہر جانے کا راستہ۔‘

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ججوں کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں گے کیونکہ ایک آزاد پارلیمان کے وجود کے لیے ایک آزاد عدلیہ لازمی ہے۔

پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری امین جاوید، نائب صدر غلام نبی بھٹی، دیگر وکلاء رہنما، پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمان چن، مسلم لیگ نون کے رہنما رانا مشہود بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے عقب میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگائے گئے تھے۔

اعتزاز احسن کا بیاناعتزاز احسن کا بیان
’بحالی کے لیے نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘
اسی بارے میں
اعتزاز احسن کا موبائل پیغام
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد