نو مارچ سے ہفتۂ یکجہتی: اعتزاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزازاحسن نے کہا ہے کہ وکلاء آنے والی پارلیمنٹ اور حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے فیصلہ کرسکیں۔ کراچی بار میں جمعرات کو وکلا سے موبائل ٹیلیفون کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نو مارچ کا لانگ مارچ اس وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت تک پارلیمنٹ ابھی وجود میں نہیں آئی ہوگی اور احتجاج بے ضرر ہوجائیگا۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ دس مارچ کو کوشش کی جائیگی کے جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھی وکلاء سے خطاب کریں۔ انہوں نے سوال کیا اگر جنرل مشرف کا تین نومبر کا فیصلہ اور عدلیہ کی توہین تسلیم کرلی جائے تو اس ملک میں کون سا جج آئندہ تین نسلوں تک آزاد فیصلہ کرے گا۔ جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے بچوں کے ساتھ ہونے والا سلوک اس کے سامنے ہوگا تو کون سا جج فری اینڈ فیئر فیصلے جاری کرے گا۔ ہر جج یہ سوچے گا کہ اگر میں نے اس میجر یا ڈی ایس پی کے خلاف فیصلہ دیا تو میرے ساتھ بھی وہ سلوک نہ ہو جو جنرل مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ کیا‘۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ’اگر جسٹس افتخار چودھری اور ان کے ساتھی جج بحال نہیں ہوئے تو ہمارے بچے ہمیں معاف نہیں کریں گے ، وہ ہمیں کہیں گے آپ ہمارے لیے محکوم عدلیہ کیوں چھوڑ گئے‘۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کی تنسیخ کے بغیر تین نومبر کے غیر آئینی اقدامات کا کوئی تدارک نہیں اور ان کو ختم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں دراصل یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ تین نومبر کے اقدامات اور پی سی او آئینی تھے اور وہ ہر آیندہ آنے والے فوجی کمانڈر کو طاقت دے رہے ہیں کہ وہ ایک دن کی ایمرجنسی لگائے اور تمام ججوں اور اراکینِ پارلمنٹ کو گرفتار کرے، بنیادی حقوق معطل کردے اور دوسرے روز یہ کہے کہ اس نے آئین بحال کردیا اور یہ نیا آئین ہے اب اس کو بدلنا ہے تو دو تہائی تین اکثریت لاؤ۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ مولوی تمیزالدین کیس سے لے کر ظفر علی شاہ کیس تک عدلیہ نے اقرار ہی اقرار کیا ہے اور سول اور اور فوجی آمروں کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کیا ہے مگر گزشتہ سال نو مارچ کا دن بھی وقوع پذیر ہوا اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے وقت کے فوجی آمر کا حکم نہ مان کر سب سر بلند کردیے ہیں۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ بار میں جمعرات کو معزول جج صاحبان جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس خلجی عارف حسین نے وکلا کی جنرل باڈی کے اجلاس میں شرکت کی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اعلیٰ عدالتوں کے نظریہ ضرورت کے تحت جاری کیئے گئے فیصلوں نے غاصبوں کو تحفط فراہم کیا مگر اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔معاشی ترقی کے نام پر غریبوں کو بیوقوف بنایا جارہا ہے اور عوام کو مہنگائی تلے دبایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت بھی صرف اور صرف آزادی حکومت اور صدر صاحب کی شخصیت کو قد آور بنانے میں مصروف رہی ہے ۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ فوج سے غیر آئینی کام لیا جارہا ہے، فوج پر ہر شہری کو فخر ہے لیکن اسے فرد واحد کی ضد کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ججز اور وکلا جدوجہد میں سرخرو نہیں ہوسکے تو آنے والی نسلیں معاف نہیں کرسکیں گی اور پچاس سال کے بعد بھی عدلیہ بحال نہیں ہوسکی گی۔ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار کی جانب سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا، کراچی بار کی جانب سے احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا۔ |
اسی بارے میں ’نو مارچ زور و شور سے منائیں گے‘27 February, 2008 | پاکستان ججوں کی نظربندی کےخلاف مظاہرہ27 February, 2008 | پاکستان بحث نہیں بحال کرو: معزول جج27 February, 2008 | پاکستان لانگ مارچ پر وکلاء میں اختلافات25 February, 2008 | پاکستان عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی24 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||