عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | وکلاء تنظیمیں گزشتہ سال نو مارچ سے احتجاج کر رہی ہیں |
پاکستان میں وکلاء کی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف اپنے احتجاج میں ایک مرتبہ پھر نرمی کرتے ہوئے عدالتوں کے بائیکاٹ کے دورانیے کو کم کردیا ہے۔ بارکونسل کے وائس چیئرمین عزیزاکبر بیگ کے مطابق وکلاء ہفتے میں ایک مرتبہ ہر جمعرات کو عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے جبکہ ہفتے کے باقی دنوں میں روزانہ ایک گھنٹے کی ہڑتال ہوگی۔ ملک میں تین نومبر کو ایمرجنسی نافذ ہونے اور پی سی او کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو برطرف کرنے پر وکلاء تنظیموں نے ان ججوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا تاہم پاکستان بار کونسل نے تیرہ جنوری کو احتجاج میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین عزیز اکبر بیگ نے ملک میں عام انتخابات سے ایک ہفتہ قبل اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ اتوار کو پاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کےاجلاس نے نئی پارلیمان کو سات مارچ تک ججوں کی بحالی کے لیے ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ بارکونسل کے وائس چئیرمین عزیر اکبر بیگ کے بقول ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عام انتخابات کے نیتجے میں وجود میں آنے والی حکومت اپنے قیام کے فوری بعد عدلیہ کو فوری بحال کرے۔ پاکستان بار کونسل کے اجلاس یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ پندرہ مارچ کو لاہور میں وکلاء کنونشن ہوگاجس میں پورے پاکستان سے وکلاء شرکت کریں گے۔ اجلاس میں پاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹوکمیٹی کے چیئرمین کے عہدے کے لیے رشید اے رضوی کو منتخب کرلیا گیا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن پہلے ہی ججوں کی بحالی کے لیےنئی پارلیمنٹ کو سات مارچ تک عدلیہ کو بحال کرنے کا موقع دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر سات مارچ تک عدلیہ کو بحال نہ کیا گیا تو ملک بھر کے وکلا صوبائی ہائی کورٹس کے معزول ججوں کی قیادت میں نو مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ |