ججوں کی نظربندی کےخلاف مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے ارکان نے ایک احتجاجی مظاہرے میں معزول چیف جسٹس اور ان کے اہلِ خانہ کے بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ افتخار محمد چوہدری اور ان کے اہلِ خانہ کی نظر بندی غیر قانونی ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے بدھ کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں اور صدر ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ججز کالونی کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے معزول چیف جسٹس اور ان کے اہلِ خانہ کے بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ افتخار محمد چوہدری اور ان کے اہلِ خانہ کی نظر بندی غیر قانونی ہے۔ سول سائٹی کے اراکین نے بالخصوص معزول چیف جسٹس کے بچوں کی نظر بندی ختم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے تو چیف جسٹس کے بچوں کو کیوں نہیں۔ مظاہرین نے احتجاجاً ججز کالونی کے باہر دھرنا دیا اور اعلان کیا کہ اگر کل تک معزول چیف جسٹس کے بچوں کی نظر بندی ختم کرکے انہیں تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع نہ کرنے دیا گیا تو سول سوسائٹی کے ارکان ججز کالونی کے باہر مستقل دھرنا دیں گے۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے انتخابات میں کامیاب ہونے والے سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ عدلیہ کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں پر عوام نے اعتماد کرکے جو ووٹ انہیں دیا ہے وہ اس کا حق ادا کریں کیونکہ عدلیہ کی آزادی پوری پاکستانی قوم کی آزادی ہے۔ | اسی بارے میں ’نو مارچ زور و شور سے منائیں گے‘27 February, 2008 | پاکستان ’عدلیہ بحالی کے لیے وقت دیں گے‘26 February, 2008 | پاکستان ’لانگ مارچ مؤخر ہو سکتا ہے‘26 February, 2008 | پاکستان جسٹس (ر) طارق کی نظر بندی ختم26 February, 2008 | پاکستان عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی24 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||