جسٹس (ر) طارق کی نظر بندی ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نےمنگل کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر) طارق محمود کی نظر بندی کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ اسلام آباد کے ڈِپٹی کمشنر عامر احمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے تین ہفتے پہلے ان کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے اس سے پہلے وہ نوے دن تک حکومت پنجاب کے احکامات کی روشنی میں گھر میں نظر بند رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ سلام آباد کی انتظامیہ کے پاس ان کے علاوہ ایسا کوئی وکیل نہیں تھا جس کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کو ملک میں تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ایمرجنسی لگنے کے بعد پنجاب کی حکومت نے اسلام آباد میں ان کے گھر میں نظر بند کیا گیا تھا۔ صوبائی حکومت کی نظربندی کے خاتمے کے بعد سابق جسٹس گھر سے باہر نکلے تو کچھ ہی دیر کے بعد وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے ان کی نظر بندی کے احکامات جاری کردئیے۔ جسٹس طارق محمود معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے دیگر ججوں کی بحالی کے علاوہ عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں بھی پیش پیش تھے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور علی احمد کرد ابھی تک گھروں میں نظر بند ہیں اور ان کی نظر بندی کے احکامات ابھی تک واپس نہیں لیے گئے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ان وکلاء میں شامل ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کی طرف سے نو مارچ کو معزول ججوں کی بحالی کے لیے بس چلانے پرتحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومت کو عدلیہ کی بحالی کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ | اسی بارے میں لانگ مارچ پر وکلاء میں اختلافات25 February, 2008 | پاکستان ہفتہ بھرعدالتوں کا مکمل بائیکاٹ10 February, 2008 | پاکستان تمام ججز کو بحال کریں گے: نواز21 February, 2008 | پاکستان کراچی: وکلاء کی ریلی پر لاٹھی چارج21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||