لانگ مارچ پر وکلاء میں اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے نو مارچ کو لاہور اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کر کے انتخابات میں اکثریت سے جیتنے والی جماعتوں کو دو ہفتے کی مہلت دی ہے کہ وہ معزول ججوں کی بحالی کا اعلان کریں ورنہ وکلاء ایک بار پھر سڑکوں پر ہوں گے تاہم وکلاء تحریک کے بعض رہنما انتخابات کے بعد کی صورتحال میں اس طرح کے احتجاج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اعتزاز احسن کی طرح پچھلے ساڑھے تین ماہ سے نظربند جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے اپنے ایک بیان میں وکلاء کو مشورہ دیا ہے کہ ’ہمیں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس سے آنے والی قیادت کسی دباؤ کا شکار ہو، نادیدہ قوتیں اس سے فائدہ اٹھائیں اور ہم واپس ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں سے ہمیں ایک نئی تحریک کا آغاز کرنا پڑے‘۔ کراچی میں بھی ججوں کی بحالی کی تحریک میں سرگرم رہنے والے وکلاء رہنماؤں میں اس معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا انتخابات کے بعد بھی احتجاج کو اتنی ہی شدت اور وسعت کے ساتھ جاری رکھا جائے یا آنے والی منتخب پارلیمان اور حکومت کو موقع دیا جائے کہ وہ اس معاملے کو اتفاق رائے سے حل کرے۔
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بعض عہدیداران آف دی ریکارڈ تو یہ کہتے ہیں کہ نو مارچ کو لانگ مارچ کا فیصلہ اعتزاز احسن نے کسی مشاورت کے بغیر کیا ہے اور ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ وکلاء کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی خاطر اس کی حمایت کریں لیکن وہ آن ریکارڈ ایسی کوئی بات کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ البتہ سندھ ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ابرار حسن جنہوں نے گزشتہ سال بارہ مئی کو اس وقت کے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوی ایشن کے صدر کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو کراچی مدعو کیا تھا، ان چند سینئر وکیلوں میں سے ایک ہیں جو عام انتخابات کے بعد کی صورتحال میں وکلاء کے احتجاج کی حمایت نہیں کرتے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا اعلان وکلاء تنظیموں کا نہیں بلکہ اعتزاز احسن کا ذاتی فیصلہ ہے جو کہ موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ’اب جب کہ ملک میں جنرل الیکشنز ہوچکے ہیں اور عوام نے دو پارٹیوں کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اور ان دونوں پارٹیوں کا مشترکہ مؤقف ہے کہ عدلیہ کو آزاد ہونا چاہیے تو وکلاء کو اب صبر سے کام لینا چاہیے اور انتظار کرنا چاہیے کہ پارلیمینٹ میں وہ دونوں پارٹیاں کیا کرتی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تنظیمیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو صلاح مشورہ تو دے سکتی ہیں لیکن اس معاملے پر اب وکیلوں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا اور ان پر دباؤ ڈالنا صحیح نہیں ہے اور اسکا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔
تاہم بہت سے دوسرے وکیلوں کی طرح سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین گنڈاپور اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ برطرف ججوں کے معاملے کا کوئی حل نکالنے کے لیے وکلاء سیاسی جماعتوں کو کچھ وقت دیں۔ ان کا کہنا ہے ’اگر ہم نے اپنا سیاسی دباؤ کم کردیا تو عوام کی جو ایک آرزو ہے اور ان کی نظریں جو ہماری طرف ہیں تو وہ یہ بھی سوچیں گے کہ ہم اقتدار کی جنگ میں شامل ہوگئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری جنگ اقتدار کے لیے نہیں ہے بلکہ ملک کی بقاء، آزادی اور خودمختاری کی جنگ ہے اور وہ آزادی اور خودمختاری صرف آزاد عدلیہ اور آئین کی حکمرانی سے ہی ہوسکتی ہے‘۔ صلاح الدین گنڈاپور نے کہا کہ اگرچہ اعتزاز احسن نے نو مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے لیکن پاکستان بار کونسل آئندہ مہینے کے پہلے ہفتے میں اجلاس کرکے اس بات پر غور کرے گی کہ آیا لانگ مارچ ضروری ہے یا اسلام آباد میں ہی احتجاجی جلوس نکالا جائے۔ لیکن ابرار حسن کہتے ہیں کہ اگر وکلاء تنظیمیں احتجاج جاری رکھتی ہیں تو برطرف ججوں کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ ’پارلیمینٹ کے ممبران پر بلاوجہ کا پریشر ڈالنے سے سیاسی جماعتیں ایسی انتہائی پوزیشنیں لے سکتی ہیں جس میں پھر مصالحت نہیں ہوپائے گی اس لیے بہتر ہے کہ وکلاء کو اپنا پریشر ختم کرنا چاہیے اور اپنا احتجاج دو چار ماہ کے لیے جب تک کہ پارلیمینٹ کا فیصلہ نہ آجائے ملتوی کردینا چاہیے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||