BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 07:25 GMT 12:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتزاز، طارق محمود پھر نظربند

اعتزاز احسن کو بھی دوروز قبل ہی رہا کیا گیا تھا
پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور سابق صدر جسٹس (ریٹائرڈ) طارق محمود کو تیس روز کے لیے دوبارہ ان کے گھروں پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔

اعتزاز احسن کو تیس دن تک مزید نظر بندے کیئے جانے کے احکامات ان کے گھر زمان پارک لاہور میں دیئے گئے۔ جب کہ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کو اسں وقت یہ خبر سنائی گئی جب نوئے دن کی نظر بندی ختم ہونے پر وہ ہپستال جانے کے لیے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے۔

اعتزاز احسن کو نظر بند کیئے جانے سے قبل لاہور کے ہوائی اڈے پر سندھ جانے سے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ ان کے سندھ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اعتزاز احسن محترمہ بینظر بھٹو کے چہلم میں شرکت کے لیے گھڑی خدا بخش جانا چاہتے تھے۔

نوئے دن کی نظر بندی کے بعد ایک دن کی رہائی کے دوران اعتزاز احسن نے سنیچر کی صبح وکلاء کی نیشنل ایکش کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ وکلاء کے اجلاس کے بعد انہوں نے لاہور ناصر باغ سے نکالی جانے والی وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان کی ایک مشترکہ ریلی سے خطاب کیا۔

ادھر کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کے علی احمد کرد کے گھر کے باہر پولیس بدستور موجود ہے اور انہیں تاحال نظربندی میں توسیع کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔

سنیچر کو علی احمد کرد نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے وکلاء کی تحریک جاری رکھنے کا عزم کیا۔

اسلام آباد میں طارق محمود کی نوے روز کی نظر بندی جمعہ کی شب ختم ہوئی لیکن پولیس بدستور ان کے مکان کے باہر موجود رہی۔ طارق محمود کو بھی بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر اعتزاز احسن کی طرح تین نومبر کے بعد سے نظر بند کیا گیا تھا۔

سنیچر کی صبح جب انہوں نے طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال جانا چاہا تو ان کے گھر تعینات ایک پولیس اہلکار نے انہیں تیس روز کی مزید نظربندی کا حکم نامہ دکھا کر جانے سے روک دیا۔

وکلاء اور سول سوسائٹی کے اراکین کی بڑی تعداد جمعہ کو ان کی رہائی کی اطلاع پر ان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئی اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی۔

آئین کے آرٹیکل 10 (اے) کے تحت کسی بھی شہری کو مسلسل نوے دن سے زیادہ نظربند نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حکومت نظربندی میں نوے دن سے زیادہ کی توسیع چاہے تو اسے اس شخص کو سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بورڈ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ جمعہ کو رہائی اور سنیچر کو دوبارہ نظربندی کے درمیان وقفے کی وجہ سے حکومت بورڈ کے سامنے پیشی کی شرط سے مبرا ہو گئی ہے یا نہیں۔

صدر مشرف کے خلاف نعرہ بازی
 وکلاء اور سول سوسائٹی کے اراکین ان کی بڑی تعداد جمعہ کو ان کی رہائی کی اطلاع پر ان کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئی اور صدر پرویز مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی

ادھر طارق محمود کی دوبارہ نظربندی کی خبر نے وکلاء برادری میں اشتعال پیدا کیا ہے اور راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرخان اور ٹیکسلا میں احتجاج ہوا ہے۔

طارق محمود کو اس سے قبل عید کے موقع پر تین روز کے لیے پیرول پر رہا کیا گیا تھا لیکن ان کے اس اعلان کے بعد کہ وہ نماز عید برطرف چیف جسٹس کے ساتھ ادا کریں گے انہیں دوبارہ نظر بند کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ رات رہائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ نظربندی کے دوران طبی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد