’لانگ مارچ مؤخر ہو سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جاوید امین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ نئی حکومت قائم نہ ہونے کی صورت میں وکلاء اپنی نو مارچ کی لانگ مارچ چند روز کے لیے مؤخر کر سکتے ہیں۔ اس سے پہلے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آچکی تھیں کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نو مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کردی ہے۔ سیکرٹری سپریم کور ٹ بار ایسوسی ایشن نے بی بی سی سے گفتگوکرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ ابھی تک نو مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ برقرار ہے اور وکلاء تنظیمیں اس حوالے سے اپنی تیاریوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ضرور کیا گیا ہے کہ اگر اس وقت تک پارلیمان ہی وجود میں نہ آئی اور نئی حکومت ہی نہ بنی تو پھر اس لانگ مارچ کو ملتوی بھی کیا جاسکتا ہے۔ جاوید امین ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس نئے فیصلہ کا مقصد نئی حکومت کو موقع دینا ہے کہ وہ عدلیہ کودو نومبر کی پوزیشن پر بحال کردے اور اگر وہ ایسا کردیتی ہے تو پھر احتجاج اور لانگ مارچ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ انتہائی قابل احترام لیکن سابق عہدیداروں کی جانب سے اس حوالے سے بیانات میڈیا میں آرہے ہیں لیکن اصل فیصلہ تو موجودہ عہدیداروں نے کرنا ہے اور وہ یہی ہے کہ فی الحال لانگ مارچ کی کال واپس نہیں لی گئی۔ سیکریٹری بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ایک برس پہلے نومارچ کو چیف جسٹس افتخار چودھری کو پہلی بار معطل کیا گیا تھا اس دن کو پاکستان کی تاریخ میں یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔یہ یوم سیاہ اس نومارچ کو بھی منایا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کیا گیا ہے جس میں نومارچ کے لانگ مارچ کی کال واپس لینے یا اس لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ البتہ اس سطر کولکیریں لگا کاٹ دیا گیا ہے جس میں لکھا تھا کہ نو مارچ کو وکلاء معزول ججز،سیاسی کارکن اور سول سوسائیٹی کے اراکان اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہونگے۔ اعتزاز احسن کی طرف سے لانگ مارچ کی کال پر وکلاء تنظیموں میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ بعض وکلاء کا موقف تھا کہ نومنتخب پارلیمنٹ کو مزید وقت کی ضرورت ہے تاکہ وہ ججوں کو بحال کر سکیں۔ چیف جسٹس کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے لانگ مارچ کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جو نومبر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے پابند سلاسل تھے، ان کو چھبیس فروری کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وکلاء تحریک کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ ایک نظام کے خلاف ہے اور ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عدلیہ دونومبر والی پوزیشن پر بحال کی جائے۔ بارایسوسی ایشن نے پاکستان بھر کے وکلاء سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلیاں نکالنے سے پہلے اذان نجات دیں تاکہ ان کے بقول پرویز مشرف سے ملک و جلد از جلد چھٹکارا مل جائے۔ دریں اثنا سیکرٹری لاہور بار نے اعلان کیا ہے کہ اس جمعرات کو لاہور میں تعطیل ہونے کے باعث احتجاجی جلوس جمعہ کو نکالا جائے گا۔ | اسی بارے میں لانگ مارچ پر وکلاء میں اختلافات25 February, 2008 | پاکستان ہفتہ بھرعدالتوں کا مکمل بائیکاٹ10 February, 2008 | پاکستان تمام ججز کو بحال کریں گے: نواز21 February, 2008 | پاکستان کراچی: وکلاء کی ریلی پر لاٹھی چارج21 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||