BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 February, 2008, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ بحالی کے لیے وقت دیں گے‘

اے پی ڈی ایم
ججوں کی بحالی کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دیں گے:اے پی ڈی ایم
عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم نے کہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو عدلیہ کی بحالی کے لیے پورا وقت دے گی تاہم نئی پارلیمان کو یہ کام ترجیحی بنیاد پر کرنا ہوگا۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے نو مارچ کو بطور یومِ عدلیہ منانے اور صدر پرویز مشرف سے ضد چھوڑ کر فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

عام انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اے پی ڈی ایم کا ایک سربراہی اجلاس منگل کو جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کی اسلام آباد میں رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔

تقریباً تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس میں قاضی حسین احمد، لیاقت بلوچ اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ تحریک انصاف کے عمران خان، بلوچستان کے رہنما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور پونم کے قادر مگسی بھی موجود تھے۔

 وزیراعظم چاہے پیپلز پارٹی کا ہو یا مسلم لیگ کا انہیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن اتحاد کا یہ واضح اعلان ہے کہ وہ وقت بھی دیں گے، انتظار بھی کریں گے تاہم نظربند جج رہا اور بحال ہوں اور پارلیمان طاقت کا سرچشمہ ہو۔

اجلاس کے بعد اس کے فیصلوں سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے، اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ججوں کی بحالی کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ’وزیراعظم چاہے پیپلز پارٹی کا ہو یا مسلم لیگ کا انہیں اس سے کچھ لینا دینا نہیں لیکن اتحاد کا یہ واضح اعلان ہے کہ وہ وقت بھی دیں گے، انتظار بھی کریں گے تاہم نظربند جج رہا اور بحال ہوں اور پارلیمان طاقت کا سرچشمہ ہو‘۔

محمود خان نے اتحاد کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ موجودہ غیرآئینی صدر کے تحت وہ کسی قانونی اقدامات کی توقع نہیں رکھتے۔

انہوں نے نو مارچ کو بطور یوم عدلیہ کے منانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس دن اپوزیشن اتحادی جماعتیں سیمینار اور احتجاجی جلسے جلوس منعقد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ’بظاہر اختلافات کے شکار وکلا نے اگر احتجاج کیا تو وہ بھی اس روز ان کا ساتھ دیں گے‘۔

News image
 اگر جج بحال ہوتے ہیں اور جنرل کرنل حکومت سے چلے جاتے ہیں تو وہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
محمود اچکزئی

جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اس موقع پر نواز شریف سے اپنی ایک روز قبل کی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں ججوں کی بحالی پر تحریری معاہدہ ہوا ہے اور یہ کہ یہ ان کی اولین ترجیح ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ موجودہ سیٹ اپ کے تحت ضمنی انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیں گے۔ تاہم محمود خان اچکزئی کا موقف تھا کہ’اگر جج بحال ہوتے ہیں اور جنرل کرنل حکومت سے چلے جاتے ہیں تو وہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں‘۔

قاضی حسین احمد نے راولپنڈی میں فوجی سرجن جنرل کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی وجہ صدر پرویز مشرف کا امریکہ کا صفحہ اول کا اتحادی ہونا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان واقعات کے ذریعے ملک کو انتشار کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں منظور کی جانے والی قرار دادوں کی تفصیل جماعت اسلامی کے رہنبما لیاقت بلوچ نے بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے لہذا وہ ضد چھوڑ کر مستعفی ہوجائیں۔ اتحاد نے مغربی ممالک خصوصا امریکہ اور برطانوی حکومتوں سے کہا کہ وہ حکومت سازی کے عمل میں مداخلت فورا بند کر دیں۔اے پی ڈی ایم نے ملک میں بجلی، گیس اور آٹے جیسے بحرانوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں
نو مارچ والا لانگ مارچ مؤخر
26 February, 2008 | پاکستان
عدلیہ بحال ہوگی: نواز شریف
19 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد