BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 February, 2008, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحث نہیں بحال کرو: معزول جج

جسٹس طارق پرویز
’پارلیمنٹ کے اجلاس بلانے سے پہلے یہ جماعتیں عدلیہ کی بحالی کے بارے میں ایک بِل تیار کرلیں۔‘
پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز نے کہا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ کو عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے مہلت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

پشاور میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جسٹس طارق پرویز کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ عدلیہ کو بحال ہونا چاہیئے۔ لہٰذا اب انہیں مزید کسی بھی بحث میں الجھنے کی بجائے فی الفور عدلیہ کو بحال کردینا چاہیئے۔

’عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے تمام جماعتوں کا ذہن صاف ہے اورانہوں نے اس سلسلےمیں سرعام اعلانات بھی کیے تھے۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر مزید کسی قسم کی بحث کی ضرورت نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس بلانے سے پہلے یہ جماعتیں عدلیہ کی بحالی کے بارے میں ایک بِل تیار کرلیں اور پہلے ہی دن اسے پیش کردیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں وکلاء مقدمات کی پیروی کے لیے پیش نہیں ہوتے اور اگر پارلیمنٹ کو عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے مزید مہلت دی گئی تو یہ عمر قید یا پھانسی کی سزا پانے والے ان قیدیوں کیساتھ بڑا ظلم ہوگا جنہوں نے اپنی سزاؤوں کیخلاف اپیل کی درخواستیں داخل کرائی ہیں کیونکہ اسطرح انکے انتظار کرنے کے دن مزید بڑھ جائیں گے۔

طارق پرویز نے کہا کہ پارلیمنٹ کے علاوہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق کیانی کے ’ایگزیکٹیو آرڈر‘ کےذریعے بھی عدلیہ کی بحالی ہو سکتی ہے کیونکہ صدر مشرف نے تین نومبر کو ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے صدر کے آئینی اختیارات کی بجائے چیف آف آرمی اسٹاف کی ہی طاقت استعمال کی تھی۔

 آئین میں صدر کو ایمرجنسی لگانے کی اجازت ہے مگر پرویز مشرف نے صدر ہوتے ہوئے اپنےآئینی اختیار کی بجائے چیف آف آرمی اسٹاف کی وہ طاقت استعمال کی جسکا تصور تک آئین میں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف اپنے پیشرو کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹیو آرڈر کو باآسانی واپس لے سکتے ہیں۔
جسٹس طارق پرویز

انہوں نے کہا ’آئین میں صدر کو ایمرجنسی لگانے کی اجازت ہے مگر پرویز مشرف نے صدر ہوتے ہوئے اپنےآئینی اختیار کی بجائے چیف آف آرمی اسٹاف کی وہ طاقت استعمال کی جسکا تصور تک آئین میں موجود نہیں ہے۔ لہٰذا موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف اپنے پیشرو کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹیو آرڈر کو باآسانی واپس لے سکتے ہیں۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ اس سے تو فوج پر پھرملک کی سیاست میں مداخلت کرنے کا الزام لگ جائے گا، طارق پرویز کا کہنا تھا کہ ایک ادارہ ہی اپنا حکم بہتر طور پر واپس لے سکتا ہے اور اس طرح کرنے سے فوج اپنے ہی کیے ہوئے غلط اقدام کو ٹھیک کرلے گی۔

نئی پارلیمنٹ کو عدلیہ کی بحالی کے لیے مہلت دینے کے حوالے سے وکلاء رہنماؤں کے متضاد بیانات پر جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ وکلاء رہنماؤں کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

’وکلاء رہنماؤں کے درمیان عدلیہ کی بحالی کے حوالے سےکوئی تضاد موجود نہیں ہے بلکہ وہ سب عدلیہ کی بحالی پر متفق ہیں صرف طریقہ کار پردو مختلف آراء سامنے آئے ہیں۔‘

ایمرجنسیایمرجنسی کا عرصہ
ایمرجنسی کے تحت ملک میں کیا کیا ہوا؟
سندھ ہائی کورٹسندھ ہائی کورٹ میں
عبوری آئینی حکم کو چیلنج کر دیا گیا ہے
جنرل مشرفمیڈیا، عدلیہ کو نکیل
پی سی او کا مقصد ججوں اور میڈیا کو نکیل ڈالنا
جسٹس خواجہ شریف ’باغی‘ جج نظربند
ججوں کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی
اسی بارے میں
عدالتوں کے بائیکاٹ میں نرمی
24 February, 2008 | پاکستان
جسٹس (ر) طارق کی نظر بندی ختم
26 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد