’جج بحال نہ ہوئے تو لانگ مارچ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظر بند صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے ہفتے کولاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں لاہور ہائی کورٹ بار میں جا کر اپنا ووٹ ڈالا۔ اعتزاز احسن کو ہائی کورٹ بار کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت حکومت پنجاب نے ایڈوکیٹ ہائی کورٹ میاں جمیل اختر کی خصوصی درخواست پر دی گئی تھی۔ اعتزاز احسن ان وکلاء رہنماؤں میں شامل ہیں جو گزشتہ برس تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے دن سے نظربند ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں نائب صدارت کے امیدوار میاں جمیل اختر نے ہوم سیکرٹری کو ایک درخواست دی تھی جس میں کہاگیا کہ اعتزاز احسن لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے رکن ہیں اور بار کےسالانہ انتخابات میں ووٹ ڈالنا ان کی بنیادی حق ہے جس سےان محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اعتزاز احسن نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں صدراتی امیدوار انور کمال جوحامد خان کی سربراہی میں قائم پروفیشنل گروپ کے امیدوار ہیں کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ انور کمال کے مدمقابل پرویز عنایت ملک صدارتی امیدوار ہیں جن پیپلز پارٹی کی سینیٹر سردار لطیف احمد کھوسہ کی سربراہی میں کھوسہ گروپ کی حمایت حاصل ہے۔
اعتزاز احسن کے لاہور ہائی کورٹ بار پہنچنے پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا اور وکلاء نے اعتزاز احسن کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ اس موقع پر اعتزاز احسن نے’ گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔ وکلاء نے’اعتزاز تیرے جان نثار بے شمار بے شمار اور نو مارچ لانگ مارچ‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اعتزاز احسن نےلاہور ہائی کورٹ کے نئے ایڈیشنل جج اور لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون کے کمرہ عدالت کے سامنے وکلاء سے خطاب کیا۔ اعتزاز احسن نےاس عزم کا اعادہ کیا کہ وکلاء ملک میں آزاد عدلیہ کودوبارہ بحال کرائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم چاہئے وہ پی سی او کو قبول کررہے ہیں۔ ان کے بقول کل کوئی نیا فوجی کمانڈر ایک دن کے لیے ایمرجنسی لگائے اور آئین میں ترمیم کرے، پارلیمان کے باب کو پھاڑ دے اور پھر آئین بحال کردے اور اعلان کرے کہ یہ ترمیم شدہ آئین اب پاکستان کا آئین تو یہ ہمیں منظور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان جو معاہدے ہوا ہے اس کی پہلی شق عدلیہ کی بحالی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس ہاؤس خالی کرنے کا کہتے ہیں، لیکن سابق آرمی چیف سے آرمی ہاؤس خالی کرائیں۔
ان کا کہناہے سپریم کورٹ کے تیرہ ججوں نے بیس جولائی کوجو فیصلہ دیا تھا کہ اعلیْ عدلیہ کے کسی بھی جج کو آئین کے آرٹیکل دو سو نو یعنی سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کئے بغیر منصب سے ہٹایا نہیں جاسکتا اور یہ فیصلہ دینے والوں میں وہ جج بھی شامل ہیں جہنوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ ان کے بقول آج یہ جج کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ساٹھ ججوں کو ان کے عہدے سےہٹانا اور گرفتار کرنا آئین کے مطابق ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اصل منصف پھر آئیں گے اوران کو نہ لایا گیا تو پھر نو مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے تین نابالغ بچوں کو تین ماہ سے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور بچوں اس قید کی وجہ سے سکول نہیں جاسکے ان کا کیا قصور ہے۔ ان کے بقول جسٹس افتخار محمد چودھری کے بچوں کی غیرقانونی قید کا حساب لیں گے۔ اعتزاز احسن نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ہائی کورٹ بار میں احتجاجی کیمپ میں شرکت کی جس کے بعد اعتزاز احسن کے گھر پہنچنے پر ان کو دوبارہ نظربند کردیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||