BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نظر بندیوں کیخلاف وکلاء کااحتجاج

اعتزاز احسن (فائل فوٹو)
اعتزاز احسن کو دوبارہ نظربند کر کے ان کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور دیگر وکلاء رہنماؤں کودوبارہ نظربند کرنے کے خلاف وکلاء نے اجتحاجی مظاہرہ کیا ہے۔

یہ مظاہرہ بیرسٹر اعتزاز احسن کی رہائشگاہ پانچ زمان پارک کے باہر ہوا جہاں اعتزاز کو نظربند کر کے ان کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

مظاہرہ کرنے والوں میں وکلاء کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کی سابق جج، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلباء بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے نظربند وکلاء رہنماؤں اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور جسٹس (ر) طارق محمود کی تصاویر کے علاوہ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’اعتزاز کو رہا کرو اور عدلیہ کو بحال کرو‘ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین ’گو مشرف گو، گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو، لےکر رہیں گے آزادی، ہے حق ہمارا آزادی‘ْ کے نعرے لگائے۔

وکلاء نے جسٹس افتخار محمد چودھری اور اعتزاز احسن سمیت دیگر رہنماؤں کی حمایت بھی نعرے لگائے۔

لاہور میں شدید سردی کے باوجود احتجاج میں وکلاء کے اہل خانہ اور بچوں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نظر بند وکلاء رہنما وکلاؤں کو فوری طور پررہا کیا جائے اور تین نومبر سے پہلی والی عدلیہ کو بحال کیا جائے ۔

مظاہرین نے یہ بھی اعلان کیا کہ نو فروری کو اسلام آباد میں ہونے والے قومی وکلاء کنونشن میں شرکت کے لیے سول سوسائٹی اور طلبا کا کارواں وکلاء کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا۔

اعتزاز کی نظر بندی غیرقانونی ہے
 اعتزاز احسن کی نظر بندی غیرقانونی ہے کیونکہ اس وقت ملک میں عدلیہ کام نہیں کر رہی ہے اسی وجہ سے حکمران اس قسم کے غیر قانونی احکامات جاری کر رہے ہیں
بیگم بشریٰ اعتزاز
اس موقع پر بیگم بشریٰ اعتزاز نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر اعتزاز احسن کی نظر بندی غیرقانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عدلیہ کام نہیں کر رہی ہے اور اسی وجہ سے حکمران اس قسم کے غیر قانونی احکامات جاری کر رہے ہیں۔

مظاہرے میں جسٹس افتخار محمد چودھری اور عدلیہ کی بحالی کے بارے میں ایک نظم بھی پڑھی گئی جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اعتزاز احسناعتزاز کا خط
جنوری کے آخر میں ایک جیوڈیشل بس
وکلاء کا احتجاج’لچک نہ دکھائیں‘
آزاد عدلیہ کے بغیر منصفانہ انتخابات ناممکن
باعزت برخاستگی
حکومت حلف نہ لینے والے ججوں کی باعزت برخاستگی چاہتی ہے
جسٹس خواجہ شریف ’باغی‘ جج نظربند
ججوں کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی
بار سے چھٹی
انتخابات لڑنے والے وکلاء رکن نہیں رہیں گے
اسی بارے میں
احتجاجی وکلاء کےمقدمےخارج
20 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد