ارمان صابر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | فنڈ ایک ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے جس کا ہر ممبر سابق جج ہے |
وکلاء کی احتجاجی تحریک اور عدالتوں کے بائیکاٹ کے نتیجے میں وکلاء کو ہونیوالے مالی نقصان کے باعث ان کی مدد کرنے کے لیے پیر کو ایک فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ناصر اسلم زاہد نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈ ایک ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے جس کا ہر ممبر سابق جج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس فنڈ کو قائم تو کردیا گیا تھا اور اس اکاؤنٹ میں گیارہ لاکھ روپے جمع بھی ہوئے تھے لیکن پیسوں کی تقسیم میں کچھ مشکلات پیش آ رہی تھیں جس کے باعث اس فنڈ کو ایک ٹرسٹ کے تابع اور منظم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فنڈ اس مقصد اور جذبہ کے تحت قائم کیا گیا ہے کہ وکلاء اور خاص طور پر نوجوان وکلاء جو احتجاجی تحریک میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور احتجاج کی وجہ سے عدالتوں میں شریک نہیں ہوپا رہے، ان کی مالی مدد کی جا سکے اور اس کا نام لیگل ریلیف فنڈ ہوگا۔ ناصر اسلم زاہد نے کہا کہ تین نومبر کے بعد اعلٰی عدالتوں سے کوئی ساٹھ فیصد جج ہٹا دیے گئے یا نکال دیے گئے اور ان کی جگہ جن ججوں کی تقرریاں ہوئی ہیں تو اس سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے اور اس کے علاوہ جوڈیشری کا معیار بھی کافی کمزور ہوگیا ہے۔
 | بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے  تین نومبر کے بعد اعلٰی عدالتوں سے کوئی ساٹھ فیصد جج ہٹا دیے گئے یا نکال دیے گئے اور ان کی جگہ جن ججوں کی تقرریاں ہوئی ہیں تو اس سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے  ناصر اسلم زاہد |
انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر آواز اٹھانے اور کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ایک طرف احجاج اور ہڑتالیں کی جارہی لیکن دوسری جانب یہ بھی سوچا جانا چاہیے کہ حالات کس طرح بہتر ہوں۔ وکلاء کی جدوجہد کا آغاز گزشتہ برس نو مارچ کو اس وقت ہوا جب صدر پرویز مشرف نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس پاکستان کے منصب سے ہٹا کر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی پر ملک بھر کے وکلاء سراپا احتجاج بن گئےاور سڑکوں پر پولیس کے تشدد کا نشانہ بنے۔ اس کے بعد جب صدر پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے پی سی او کے تحت اعلیْ عدلیہ کے ججوں کو ان کے عہدوں سے فارغ کیا تو وکلاء ایک بار پھر جدوجد کے لیے میدان میں اتر آئے۔ |