اعتزاز بیان واپس لیں: کراچی بار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن سے اس بیان کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا جس میں انہوں نے وکلاء کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بارہ مئی کو پیش آنے والے واقعے کو بھول جائیں اور اب یہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نعیم قریشی نے کہا ہے کہ یہ مطالبہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں کیا گیا۔ کراچی میں وکلاء نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کی اوراحتجاجی ریلی نکالی جو ایم اے جناح روڈ پر ختم ہوئی ۔ اس موقع پر وکلاء نے دھرنا بھی دیا۔ لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سپریم کورٹ کےسابق جج جسٹس وجیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں عوام نےصدر پرویز مشرف کےخلاف مینڈیٹ دیا ہے اور اب نومنتخب ارکان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں۔ ان کے بقول وکلاء نے سیاسی جماعتوں کے نومنتخب ارکان اسمبلی پر نظر رکھی ہوئی اور اگر نومنتخب ارکان نے اپنے موقف سےانحراف کی کوشش کی تو ان کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین عدلیہ کی بحالی کے لیے وکلاء کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والوں ججوں کی بحالی کے لیے کسی آئینی ترمیم یا سادہ اکثریت سے منظور کیے جانے والے کسی ایکٹ آف پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ان کے بقول ججوں کوصرف ایک انتظامی حکم کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ ججوں کی بحالی کا میثاق جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’ججوں کی بحالی ایک الگ معاملہ ہے اور اس کو میثاق جمہوریت کےساتھ نہیں جوڑنا چاہئیے۔‘ جسٹس وجیہ الدین نے سیاسی جماعتوں کے نومنتخب ارکان سے کہا کہ تین ہفتےگزرنے کے باوجود پارلیمان کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا اس لیے انہیں ججوں کی بحالی کے بارے میں پارلیمان کے اجلاس طلب کرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئیے۔ ’پارلیمان کے اجلاس سے قبل ہی تمام نومنتخب ارکان اسمبلی کو عدلیہ کے حوالے سےحل تلاش کرلینا چاہئیے۔‘ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وکلاء تحریک کے لیے بڑی کامیابی اب دور نہیں ہے۔ جسٹس وجیہ الدین نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کی اور وکلاء برادری سے اپیل کی کہ جس طرح وکلاء ججز کالونی کی طرف رخ کرتے ہیں، اسی طرح ان کو ڈاکٹر قدیر خان کی رہائش گاہ کی طرف بھی جانا چاہئے۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ جب بھی اسلام آباد جائیں گے تو وکلاء کے ایک بڑے جلوس کے ہمراہ ڈاکٹر قدیر کےرہائش گاہ کی طرف بھی جائیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیاگیا کہ ڈاکٹر قدیر خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہائی کورٹ بار کے وکلاء ڈاکٹر قدیر خان کے گھر کی طرف مارچ کریں گے۔ جمعرات کو پاکستان بھر کی وکلاء تنظیموں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ہفتہ وار یوم احتجاج منایا۔ لاہور میں ضلعی بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاس ہوئے اور جلوس نکالے۔ پشاور اور کوئٹہ میں بھی وکلاء ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ | اسی بارے میں اسلام آباد: سینکڑوں وکلاء کا احتجاج09 February, 2008 | پاکستان ’عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں‘10 December, 2007 | پاکستان جسٹس وجیہہ الدین صوبہ بدر07 December, 2007 | پاکستان صدر کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن24 November, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار بدستور محصور‘21 November, 2007 | پاکستان ’جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب‘19 November, 2007 | پاکستان ’عدالت دھمکیوں میں نہیں آئے گی‘ 02 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||