’حکمِ امتناعی آیا تو احتجاج ہو گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت عظمی کے فل کورٹ اجلاس کو طلب کرنے کے اعلان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے واضع کیا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کی بابت کسی قسم کے حکم امتناعی کی صورت میں وکلاء بھرپور احتجاج کریں گے۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکم امتناعی کی صورت میں لچک نہیں دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان حکم امتناعی کی پابند نہیں ہوگی کیونکہ وہ ایک مقتدر ادارہ ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے عدالت کا فل کورٹ اجلاس منگل کی دوپہر کوسپریم کورٹ بلڈنگ میں طلب کیا ہے۔ اس اچانک اجلاس کے طلب کرنے پر وکلاء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کے لیے کہیں بھی جگہ نہیں اور تین نومبر کے تمام اقدامات غیر قانونی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کی جانب سے حکم امتناعی جاری کیا گیا تو اگلے دن ہی وکلاء ملک بھر میں تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے اور ہر شہر میں ریلی نکالی جائے گی۔ اس کے علاوہ ججوں کی متنازعہ تصاویر بھی بار ایسوسی ایشنوں کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور پارلیمنٹ کو تیس دن کا پورا موقع دینا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے بعد ان کی الٹی گنتی بھی شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے واضع کیا کہ وہ مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی میں روکاوٹ ہرگز نہیں بنیں گے۔ ’ہم ان کو پورا وقت دیں گے۔‘ اعتزاز احسن نے عجلت میں طلب کیے جانے والے اجلاس پر حیرت کا اظہار کیا۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ کا فل بنچ اجلاس طلب 17 March, 2008 | پاکستان ’چیف جسٹس کی نظر بندی پر مقدمہ‘03 March, 2008 | پاکستان مسئلہ ہمارے افتخار کا ہے: اعتزاز04 March, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر وکلاء مطمئن09 March, 2008 | پاکستان ’وہی آئین ہے جو دو نومبر کو تھا‘11 March, 2008 | پاکستان اعتزاز کی مہم خود چلاؤں گا: شہباز14 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||