BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 March, 2008, 23:31 GMT 04:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتزاز کی مہم خود چلاؤں گا: شہباز

شہباز شریف
اعتزاز احسن نے جمعہ کے روز شہبازشریف سے ان کی ڈیفنس میں واقع اقامت گاہ پر ملاقات کی
مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نےضمنی انتخابات میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن کی مکمل حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے اعتزاز احسن ضمنی انتخابات مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار ہونگےاور وہ خود اعتزاز احسن کی انتخابی مہم چلائیں گے۔

انہوں نے یہ بات اعتزاز احسن کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اعتزاز احسن جمعہ کے روز شہبازشریف سے ملاقات کرنے کے لیے ان کی ڈیفنس میں واقع اقامت گاہ پر گئے۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ وہ ضمنی انتخابات میں دو صوبائی حلقوں سے انتخاب میں حصہ لیں گے تاہم انہوں نے ان صوبائی حلقوں کے بارے میں بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں عبوری مدت کے لیے وزیر اعلیْ کی نامزدگی کا فیصلہ مسلم لیگ نواز کے قائد نوازشریف کریں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے مسلم لیگ نواز کے وزراء کا صدر پرویز مشرف سے حلف اٹھانا ایک بڑے مقصد کے لیے قربانی ہے۔

اعتزاز احسن
اعتزاز احسن نے شہباز شریف کی پیشکش پر کہا کہ ان کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کرے گی

ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان عدلیہ کے پیچھے فولاد کی طرح کھڑی ہوگی۔ان کے بقول مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی تہتر کے آئین کا حلف اٹھائیں گے اور اس مقصد کے لیے ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی تین نومبر سے پہلے والے آئین کی کاپیاں اپنے ساتھ ایوان میں لے جائیں گے اور اسی پرحلف لیں گے۔

پریس کانفرنس میں اعتزاز احسن نے شہباز شریف کی پیشکش پر کہا کہ ان کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کرے گی اور وہ اس معاملہ پر وکلا سے بھی مشاورت کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے پارلیمان میں پیش کی جانے والی قرارداد کی اہمیت سیاسی اور اخلاقی ہوگی اور اس قرارداد کو منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی طرف سے عدلیہ کی بحالی کے فیصلہ کو صدر اورعدلیہ کو دونوں کو تسلیم کرنا چاہئے اورتسلیم کرنا پڑے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جس طرح غالب کا کوئی شعر آئین کا حصہ نہیں بن سکتا ہے اس طرح فرد واحد بھی آئین میں ترمیم نہیں کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طریقہ سے کی جانے والی ترمیم کو آئین میں شائع کرا کے اس کو آئین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔

ان کے بقول ایوان صدر میں اعلان مری کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور ان سازشوں کے خلاف پیش بندی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ اعتزاز احسن اور شریف برادران کے درمیان تعلقات اس وقت استوار ہوئے تھے جب اعتزاز احسن نے بارہ اکتوبر ننانوے کے بعد نواز شریف کے وکیل کی حیثیت سے ان کے مقدمات کی پیروی کی تھی۔ بینظیر بھٹو کی زندگی میں گزشتہ برس جب اعتزاز احسن لندن گئے تو نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں نےانہیں کھانے پر مدعو کیا تھا اور شریف برادران کے ساتھ ملاقات کے چند روز بعد اعتزاز احسن کی بینظیر بھٹو سے ملاقات ہوئی تھی۔

شہباز شریف، اعتزاز احسن کی نظر بندی کے دوران ان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پر بھی گئے تھے۔

اسی بارے میں
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد