BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 March, 2008, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ کا فل بنچ اجلاس طلب

جسٹس ڈوگر، صدر مشرف
جسٹس ڈوگر اب تک کے آخری پی سی او کے تحت حلف کے بعد چیف جسٹس بنائے گئے
پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس منگل کی دوپہر کوسپریم کورٹ بلڈنگ میں طلب کر لیاگیا ہے۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے سولہ ججز کے علاوہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار بھی شرکت کریں گے۔ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی صدارت چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کریں گے۔


سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلز میں فل کورٹ اجلاس کا کوئی ایجنڈا نہیں بتایا گیا تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس پارلیمنٹ کی طرف سے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں قرارداد پیش ہونے سے پہلے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بلایا گیاہے۔

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی طرف سے سپریم کورٹ کا فل کورٹ بلانے کے بارے میں جب اٹارنی جنرل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد میں موجود نہیں ہیں۔ اس فل کورٹ کی کوریج کے لیے صرف سرکاری میڈیا کو دعوت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس اور پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی تھی۔

اجلاس کیوں بلایا گیا ہے؟
 یہ اجلاس پارلیمنٹ کی طرف سے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں قرارداد پیش ہونے سے پہلے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بلایا گیاہے۔
مبصرین

اجلاس میں پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر پر اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا ملک میں اب کوئی عدالتی بحران نہیں ہے۔

ادھر پیر کو سپریم کورٹ میں پارلینمٹ سے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی کی مجوزہ قرار داد رکوانے کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی ہے۔

یہ درخواست مولوی اقبال حیدر ایڈوکیٹ نے دائر کی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جس اقدام کو سپریم کورٹ جائز قرار دے دے اس کو پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے تبدیل نہیں کر سکتی اور اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ یہ اہم نوعیت کا معاملہ ہے لہذا اس درخواست کی سماعت جلداز جلذ کی جائے۔ واضح رہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے درخواست گزار مولوی اقبال حیدر کی ججوں کے ساتھ نامناسب رویے کی وجہ سے ان کی سپریم کورٹ میں داخلے پر عمر بھر کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔

مذکورہ وکیل افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفررنس کے سلسلے میں اس ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے۔

جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
وکلاء احتجاججسٹس کیس
جسٹس افتخار کی پیشی، وکلاء سڑکوں پر
اسی بارے میں
جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟
05 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد