’امریکہ وکلاء کی مخالفت نہ کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نےامریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کےمعزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے وکلاء کی مخالفت سے گریز کریں۔ اتوار کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں عدلیہ کا آئینی مقام کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر وکلاء نے آمریت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تو انتہاپسندی اور بڑھے گی۔ سیمینار میں پندرہ ممالک کے سفارتی اہلکاروں نے شرکت کی۔ ادھر پاکستان بار کونسل نے اعلان مری کے باوجود ججوں کی بحالی تک ہفتہ وار احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعتزاز احسن نے سیمینار میں موجود مغربی ممالک کے سفارتی اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن کہتے ہیں پھر انہوں نے پاکستان کی وکلاء برادری کا بائیکاٹ کیوں کر رکھا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وکلاء دہشت گرد ہیں اور کیا ان کی تحریک ایک دہشت گرد تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پچھلے ایک سال سے قانون کی بالادستی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔’میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ہماری مدد کریں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ آپ ہمارے خلاف معاندانہ رویے سے گریز کریں او رمیں یہ بات بہت درد سے کہہ رہا ہوں۔‘ اعتزاز احسن نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سب سے مؤثر ہتھیار ایسے بااختیار لوگ ہوسکتے ہیں جنہیں اپنے حقوق کے نفاذ کا حق حاصل ہو اور یہ صرف اور صرف معزول ججوں کی بحالی کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پرویز مشرف نے برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے دس معزول ججوں کی سرکاری رہائشگاہوں کو اپنی نجی جیلوں میں تبدیل کردیا ہے اور انہیں پچھلے ساڑھے چار ماہ سے ان کے بیوی بچوں سمیت ناحق قید کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا ججوں کی قید ایسا معاملہ نہیں ہے جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو۔’یہ تو سیدھا سیدھا فوجداری جرم ہے جس پر تعزیرات پاکستان کے تحت قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کو نجی جیلوں میں بند رکھنے کا جرم ایک ایسا شخص کر رہا ہے جسے مغربی ممالک گلے لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وکلاء متحد اور منظم ہیں اور وہ اپنی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار ہونے تک جاری رکھیں گے۔ سیمینار سے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق منیر اے ملک، جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، فخر الدین جی ابراہیم اور ایڈوکیٹ اکرم شیخ نے بھی خطاب کیا۔ ان مقررین کا کہنا تھا کہ آئین ایک مقدس دستاویز ہے جس میں کوئی فرد واحد ترمیم نہیں کرسکتا جب تک کہ پارلیمان دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے اس لیے تین نومبر اور اس کے بعد اٹھائےگئے پرویز مشرف کے تمام اقدامات کی آئین کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطرف ججوں کو محض انتظامی حکم نامے کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان صدر ججوں کی بحالی کو روکنے کی سازش کررہا ہے۔ مقررین نے صدر پرویز مشرف کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے معزول ججوں کی بحالی کے عمل میں رکاوٹیں ڈالیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دریں اثناء پاکستان بار کونسل نے اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اعلان مری کے باوجود یومیہ اور ہفتہ وار احتجاج جاری رکھیں گے۔ بار کونسل کے وائس چئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ نے بتایا کہ کونسل نے اعلان مری کا خیرمقدم کیا تاہم یہ فیصلہ کیا کہ تحریک جاری رکھی جائے گی اور وکلاء عدالتوں کا ہر روز ایک گھٹنے تک اور ہر جمعرات کو مکمل بائیکاٹ جاری رکھیں گے جب تک کہ تمام معزول جج بحال نہیں ہوجاتے۔ مرزا عزیز بیگ نے بتایا کہ اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ اگر حکومت سازی کے بعد تیس دن کے اندر ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو پھر وکلاء اپنے احتجاج کو تیز تر کریں گے۔ واضح رہے کہ بار کونسل کا یہ اجلاس پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان کی درخواست پر بلایا گیا تھا جن میں سینیٹر لطیف کھوسہ اور فاروق ایچ نائیک بھی شامل تھے۔ان ارکان نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ بار کونسل اکثریت رائے سے اس بات کا فیصلہ کرے کہ کیا اعلان مری کے بعد بھی وکلاء تحریک جاری رکھنے کی ضرورت ہے اور کیا پاکستان بار کونسل کی ذیلی تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اپنے تئیں وکلاء کو احتجاج کی کال دے سکتی ہے۔ عزیز بیگ نے بتایا کہ اجلاس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ پاکستان بار کونسل کی کوئی بھی رکن بار ایسوسی ایشن بار کونسل کی منظوری سے احتجاج کی کال دے سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’چیف جسٹس کی نظر بندی پر مقدمہ‘03 March, 2008 | پاکستان مسئلہ ہمارے افتخار کا ہے: اعتزاز04 March, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر وکلاء مطمئن09 March, 2008 | پاکستان ’وہی آئین ہے جو دو نومبر کو تھا‘11 March, 2008 | پاکستان اعتزاز کی مہم خود چلاؤں گا: شہباز14 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||