BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 April, 2008, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایم کیو ایم کراچی کو جلنے سے بچائے‘

اعتزاز نے ڈاکٹر شیر افگن کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے متحدہ قومی موومنٹ کی لیڈر شپ کو خدا کا واسطہ دیکر اپیل کی ہے کہ وہ کراچی میں نکلے اور لگی ہوئی آگ کو بجھائے۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ ’خدارا کراچی میں آگ لگانا بند کریں۔‘

انہوں نے کہا یہ کراچی میں کس بات کی آگ لگائی جارہی ہے وہاں تو ابھی بارہ مئی کا زخم بھی نہیں بھرا ہے۔ انہوں نےکہا کراچی کی ملیر بار کو آگ لگا دی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ کراچی کی ایک ایسی بار ہے جس کے صدر کو بارہ مئی کو اس لیے زدوکوب کیا گیا اور گولی ماری گئی کیونکہ وہ ایک بڑی جماعت سے ہٹ کر موقف اپناتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب پھر کراچی کو جلایا گیا ہے۔ بیسیوں بسیں جل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ کراچی روشنیوں کا شہر ہے، یہ ہمارا شہر ہے، پاکستان کا وقار ہے اگریہ جل رہا ہے تو سارا پاکستان جل رہا ہے‘۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ کراچی کی عدالتوں میں فائرنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کراچی میں کس بات پر فائرنگ ہورہی ہے جبکہ خود انہوں نے اور وکلاء رہنماؤں نے ڈاکٹر شیر افگن کو بچانے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے کہا ’اب ایم کیو ایم کی لیڈر شپ سڑکوں پر نکلے اور آگ بجھائے ہم نے تو سڑکوں پر نکل کر جان ہتھیلی پر رکھ کر آگ بجھانے کی کوشش کی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ خدارا میں ان سے منت کرتا ہوں کہ وہ آگ بجھائیں، سازشوں کو ناکام بنائیں اور جمہوریت کو مستحکم ہونے دیں۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’جب ہم نے خود کو روکنا شروع کردیا اور سلو ڈاؤن کردیا لیکن جب ہم نے خود کو سلو ڈاؤن کیا تو دوسروں نے تیزی شروع کردی۔وہ چاہتے ہیں کہ وکیلوں کو برانگیختہ کریں اور انہیں بھڑکائیں اور یہی ایک سازش ہے۔‘

اعتزاز احسن نے ایک روز پہلے ڈاکٹر شیرافگن نیازی کے ساتھ بدسلوکی کو ایک سوچی سمجھی سازش اور ’انجنئیرڈ‘ واقعہ قرار دیا اور کہا کہ جان بوجھ کر پولیس کی فورس کو نہیں آنے دیا گیا اور سفید کپڑوں والے پولیس اہلکاروں نے حالات خراب کیے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس جس ویگن کو لائی اس میں جب شیر افگن کو بٹھا دیا گیا تو اس کا ڈرائیور غائب تھا۔ انہوں نے کہا شروع میں تو چند وکلاء اس ہنگامہ آرائی میں موجود تھے لیکن جب وہ شیرافگن کو بچانےکے لیے پہنچے تو وکلاء نے محاذ آرائی ختم کردی اور وہ ان کے ساتھ ملکر ڈاکٹر شیرافگن کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ سفید کپڑوں والے افراد نے حالات خراب کیے ہیں۔

انہوں نے کہ گورنر خالد مقبول ڈاکٹر شیرافگن کو ماڈل ٹاؤن کسی خاص مقصدکے لیے لے گئے تھے اور جب وہ گورنر ہاؤس سے واپس آئے تو ڈاکٹر شیرافگن کے بیانات بدل چکے تھے۔

اعتزاز احسن نےکہا کہ اس ملک کی خرابی کی بنیادی وجہ صدر پرویز مشرف ہیں جو اپنے خلاف آنے والے اٹھارہ فروری کے فیصلے کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے صدرمشرف کےحامی انہیں ججوں کی بحالی کے لیے منفی ایک کا فارمولا دیتے رہے ہیں اب وہ ملک میں امن و سکون اور استحکام کے لیے منفی ایک فارمولا دیتے ہیں جس کے تحت صدر پرویز مشرف کو منفی ہوجانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شیر افگن سے پنجاب کے نگران وزیر اعلی ،آئی جی پنجاب، ایس ایس پی کو معافی مانگنی چاہیے کیونکہ خود ان کے بار بار کےمطالبے کے باوجود پولیس کی نفری شیر افگن کو بچانے کے لیے نہیں آئی تھی۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ججوں کی بحالی کے لیے اعلان مری پر عملدرآمد ہوگا اور وہ کسی طرح کی الٹی گنتی نہیں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کالے کوٹ والا کوئی شخص کبھی خلاف قانون کاموں میں شریک نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد