BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 April, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی:وکلاء میں تصادم، ہنگامے

کراچی میں تشدد(فائل فوٹو)
ایم اے جناح روڈ پر چند گاڑیوں اور کچھ دفاتر کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے (فائل فوٹو)
کراچی سٹی کورٹس میں وکلاء کے ایک گروہ کی جانب سے وفاقی وزیر شیر افگن کی حمایت میں مظاہرے کے بعد شہر میں شدید ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں جن میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مشتعل افراد نے دکانیں بھی بند کرادی ہیں۔

سٹی کورٹس میں وکلا کے ایک گروہ نے دوپہر کو وفاقی وزیر شیر افگن کی حمایت میں مظاہرہ کیا، جس کے دوران وکلاء کا آپس میں تصادم ہوگیا۔

اس تصادم کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کی لیگل ایڈ کمیٹی کے رہنما نعیم خان سمیت پانچ سے زائد وکلا زخمی ہوگئے۔

ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ برنس روڈ کے علاقے سے ہی مزید دو لاشیں ملی ہیں، جنہیں گولیاں لگی ہوئی یہ لاشیں سول ہسپتال پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم پولیس حکام تاحال ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ایم اے جناح روڈ ، برنس روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ اور صدر سمیت شہر کے کئی علاقوں میں کاروبار بند ہوگیا ہے اور ٹریفک جام ہوگیا ہے۔

 کسی مظاہرے پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے، بار ایسو سی ایشن کی جانب جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا دوسرے لوگوں نے مظاہرہ کیا، جس کے بعد تمام معاملہ ختم ہوگیا اور کوئی وکیل زخمی نہیں ہوا ہے
محمود الحسن
نامعلوم افراد نے ملیر کورٹ پر حملہ کرکے اس آگ لگا دی۔ اس موقع پر شدید فائرنگ کی گئی اور وہاں موجود گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی۔

کراچی سٹی بار ایسو سی ایشن کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ کسی مظاہرے پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے، بار ایسو سی ایشن کی جانب جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا دوسرے لوگوں نے مظاہرہ کیا، جس کے بعد تمام معاملہ ختم ہوگیا اور کوئی وکیل زخمی نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ شیر افگن نیازی اور صدر مشرف کے حامیوں نے کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ فائرنگ کی گئی ہے اور آگ لگائی گئی ہے۔

ملیر بار کے سابق صدر اشرف سموں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے بار کی دو منزلہ عمارت پر حملہ کرکے شدید فائرنگ کی، جس میں وکلا معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں۔ تاہم بار روم ، ہال، لائبریری اور فرنیچر سمیت چار گاڑیاں جل گئی ہیں۔

 متحدہ کے وکلا نے شیر افگن نیازی پر حملے کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا تھا۔ یہ مظاہرہ جیسے ہی ختم ہوا وکلاء بار اور عدالتوں میں گئے، دہشت گرد وکلا نے جو ایجنسیوں کے پیرول پر کام کر رہے ہیں انہوں نے ان پر حملہ کیا جس میں آٹھ وکلا شدید زخمی ہوگئے
سلیم شہزاد
ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں کریکر سے دھماکہ بھی کیا گیا، فائرنگ کی وجہ سے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی مگر کہیں بھی پولیس نظر نہیں آئی فائر برگیڈ کی گاڑی بھی تاخیر سے پہنچی جب تک کافی نقصان ہوچکا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سلیم شہزاد کا کہنا ہے کہ لوگ شہر کا امن و امان خراب کرنے والوں پر نظر رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کے وکلا نے شیر افگن نیازی پر حملے کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا تھا۔ یہ مظاہرہ جیسے ہی ختم ہوا وکلاء بار اور عدالتوں میں گئے، دہشت گرد وکلا نے جو ایجنسیوں کے پیرول پر کام کر رہے ہیں انہوں نے ان پر حملہ کیا جس میں آٹھ وکلا شدید زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں چار گھنٹے شیر افگن محصور رہے مگر پولیس نہیں آئی کراچی میں فوری رینجرز اور پولیس پہنچ گئی اور اس نے فائرنگ شروع کردی۔ جس سے عوام مشتعل ہوں گے، اس میں شرپسند عناصر کو موقعہ مل جائے گا اور وہ گاڑیوں کو آگ لگائیں گے۔

اس وقت تک کئی گاڑیوں اور دفاتر کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔ اس پوری کارروائی کے دوران پولیس کہیں بھی نظر نہیں آئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد