کراچی:وکلاء میں تصادم، ہنگامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹی کورٹس میں وکلاء کے ایک گروہ کی جانب سے وفاقی وزیر شیر افگن کی حمایت میں مظاہرے کے بعد شہر میں شدید ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں جن میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ مشتعل افراد نے دکانیں بھی بند کرادی ہیں۔ سٹی کورٹس میں وکلا کے ایک گروہ نے دوپہر کو وفاقی وزیر شیر افگن کی حمایت میں مظاہرہ کیا، جس کے دوران وکلاء کا آپس میں تصادم ہوگیا۔ اس تصادم کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کی لیگل ایڈ کمیٹی کے رہنما نعیم خان سمیت پانچ سے زائد وکلا زخمی ہوگئے۔ ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ برنس روڈ کے علاقے سے ہی مزید دو لاشیں ملی ہیں، جنہیں گولیاں لگی ہوئی یہ لاشیں سول ہسپتال پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم پولیس حکام تاحال ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ایم اے جناح روڈ ، برنس روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ اور صدر سمیت شہر کے کئی علاقوں میں کاروبار بند ہوگیا ہے اور ٹریفک جام ہوگیا ہے۔ کراچی سٹی بار ایسو سی ایشن کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ کسی مظاہرے پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے، بار ایسو سی ایشن کی جانب جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا دوسرے لوگوں نے مظاہرہ کیا، جس کے بعد تمام معاملہ ختم ہوگیا اور کوئی وکیل زخمی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ شیر افگن نیازی اور صدر مشرف کے حامیوں نے کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ فائرنگ کی گئی ہے اور آگ لگائی گئی ہے۔ ملیر بار کے سابق صدر اشرف سموں نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے بار کی دو منزلہ عمارت پر حملہ کرکے شدید فائرنگ کی، جس میں وکلا معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں۔ تاہم بار روم ، ہال، لائبریری اور فرنیچر سمیت چار گاڑیاں جل گئی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما سلیم شہزاد کا کہنا ہے کہ لوگ شہر کا امن و امان خراب کرنے والوں پر نظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کے وکلا نے شیر افگن نیازی پر حملے کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا تھا۔ یہ مظاہرہ جیسے ہی ختم ہوا وکلاء بار اور عدالتوں میں گئے، دہشت گرد وکلا نے جو ایجنسیوں کے پیرول پر کام کر رہے ہیں انہوں نے ان پر حملہ کیا جس میں آٹھ وکلا شدید زخمی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں چار گھنٹے شیر افگن محصور رہے مگر پولیس نہیں آئی کراچی میں فوری رینجرز اور پولیس پہنچ گئی اور اس نے فائرنگ شروع کردی۔ جس سے عوام مشتعل ہوں گے، اس میں شرپسند عناصر کو موقعہ مل جائے گا اور وہ گاڑیوں کو آگ لگائیں گے۔ اس وقت تک کئی گاڑیوں اور دفاتر کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے۔ اس پوری کارروائی کے دوران پولیس کہیں بھی نظر نہیں آئی۔ | اسی بارے میں سابق وزیر اعلیٰ سندھ جوتےکانشانہ07 April, 2008 | پاکستان آصف زرداری کا وکلاء کو انتباہ 08 April, 2008 | پاکستان جوتا پھینکنے والا شخص گرفتار09 April, 2008 | پاکستان میانوالی میں شدید عوامی رد عمل09 April, 2008 | پاکستان ارباب غلام رحیم کے متنازع بیانات08 April, 2008 | پاکستان عوامی رد عمل یا سوچی سمجھی سازش؟08 April, 2008 | پاکستان وزیرِاعلٰی کا حلف، سیاسی تعطل جاری08 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||