BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 April, 2008, 08:13 GMT 13:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرِاعلٰی کا حلف، سیاسی تعطل جاری

سندھ کے نئے وزیرِ اعلیٰ سید قائم علی شاہ
قائم علی شاہ ماضی میں بھی سندھ کے وزیرِاعلیٰ رہ چکے ہیں
سندھ کے نومنتخب وزیرِاعلٰی سید قائم علی شاہ نے منگل کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ منگل کی شام کو ہی ایوان سے اعتماد کا ووٹ بھی لے رہے ہیں۔

ادھر سندھ میں حکومت سازی کے سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے مفاہمتی مذاکرات میں تعطل ختم نہیں ہو سکا ہے جبکہ مسلم لیگ(ق) نے اپنی سابقہ اتحادی جماعتوں سے رابطے بحال کیے ہیں۔

وزیراعلٰی کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی جہاں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے سید قائم علی شاہ سے حلف لیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس تقریب میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والا کوئی رکن اسمبلی یا عہدیدار شریک نہیں ہوا۔

تقریب میں سندھ اسمبلی کے نومنتخب سپیکر نثار کھوڑو، ڈپٹی سپیکر شہلا رضا اور سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر پیر مظہر الحق سمیت صوبائی اسمبلی کے اراکین اور اعلٰی افسران نے شرکت کی۔

 تقریبِ حلف برداری میں متحدہ قومی موومنٹ کے راہنماؤں کی عدم موجودگی سندھ اسمبلی میں پیر کو ہنگامہ آرائی کے دوران سابق وزیراعلٰی ارباب غلام رحیم کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر ایم کیو ایم کی جانب سے اسمبلی اجلاس کے غیر معینہ مدت کے لیے بائیکاٹ کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

تقریبِ حلف برداری میں متحدہ قومی موومنٹ کے راہنماؤں کی عدم موجودگی سندھ اسمبلی میں پیر کو ہنگامہ آرائی کے دوران سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر ایم کیو ایم کی جانب سے اسمبلی اجلاس کے غیر معینہ مدت کے لیے بائیکاٹ کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔

قائم علی شاہ کی حلف برداری کے بعد موقع پر موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جیئے بھٹو اور جیئے بینظیر کے نعرے بلند کیے تاہم نو منتخب وزیراعلٰی نے کارکنوں کو نعرے بازی سے منع کیا۔

کراچی پولیس کی جانب سے حلف برداری اور اسمبلی کے اجلاس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اورگورنر ہاؤس اور اسمبلی کے اردگرد بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات تھے۔

پیر کو سندھ اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار سید قائم علی شاہ کو بلامقابلہ وزیرِ اعلٰی منتخب کیا تھا اور ایوان میں موجود نوے اراکین نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ قائم علی شاہ اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں سندھ کے وزیرِاعلٰی رہ چکے ہیں۔

ادھر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ارباب غلام رحیم سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے جاری کردہ بیان کے مطابق الطاف حسین نے ارباب غلام رحیم کو بتایا کہ انہوں نے خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کا شاندار استقبال کیا تھا لیکن ایم کیو ایم کی خواتین ارکان کے ساتھ اسمبلی پہنچنے پر بدتمیزی کی گئی جس سے لگتا ہے کہ قومی مفاہمت کے نعرے جھوٹے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں مفاہمت کے لیے جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک ختم نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سے پیپلز پارٹی کے رابطے جاری ہیں۔ حلف برداری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسے صورتحال کو ڈیڈ لاک نہیں کہیں گے اور اگر دوسری طرف سے ڈیڈ لاک ہے تو انہیں معلوم نہیں ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ نائین زیرو جارہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

 ایک طرف جمہوریت کے بڑے دعوے کیے جائیں دوسری طرف منتخب ایوانوں میں ایسا ماحول اختیار کیا جائے اور وہاں کھلی غنڈہ گردی کی جائے تو پھر گلیوں اور محلوں میں کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس شرمناک اور افسوس ناک واقعے کی ذمے داری قبول کرے وہ کسی طرح اپنے دامن کو نہیں بچا سکتی
فاروق ستار

ادھر مسلم لیگ ق نے سندھ میں سیاسی تعطل کے بعد سابقہ اتحادی جماعتوں سے رابطے بحال کیے ہیں اور اس سلسلے میں مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کراچی پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

چودھری شجاعت کے ایم کیو ایم کے مرکز کے دورے کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ظلم ہوتا ہے وہاں ایم کیو ایم آواز اٹھاتی ہے۔ ارباب غلام رحیم کے ساتھ جو گزشتہ دو روز ہوا وہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اس سے قبل چودھری شجاعت حسین نائن زیرو آئے تھے تو انہیں یہ باور کرایا گیا تھا کہ وہ نئے دوست بنانے جا رہے ہیں مگر پرانے دوستوں کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اس لیے جب ظلم ہوا تو انہوں نے ڈٹ کر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا موقف تھا کہ ’ایک طرف جمہوریت کے بڑے دعوے کیے جائیں دوسری طرف منتخب ایوانوں میں ایسا ماحول اختیار کیا جائے اور وہاں کھلی غنڈہ گردی کی جائے تو پھر گلیوں اور محلوں میں کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس شرمناک اور افسوس ناک واقعے کی ذمہ داری قبول کرے وہ کسی طرح اپنے دامن کو نہیں بچا سکتی ہے۔

اس موقع پر چودھری شجاعت نے کہا کہ ’یہ مفاہمت کی باتیں کرتے ہیں اور اگر یہ ابتداء ہے تو پھر خدا ہی حافظ ہے‘۔

جواں سال اسمبلی
سندھ اسمبلی نصف ارکان پہلی مرتبہ رکن بنے ہیں
زرداری الطافسندھ میں ساتھ ساتھ
’پی پی پی متحدہ کو ساتھ لےکر چلنے کی خواہاں‘
بھٹو کی برسیبھٹو کی برسی
موسموں اور سیاستوں کے بدلتے رنگ
بھٹو کی برسیپرانی قبر، نئی قبر
گڑھی خدابخش میں ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی
سندھ اسمبلیسندھ اسمبلی
پی پی اور ایم کیو ایم مفاہمت کے بعد پہلا اجلاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد