سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی نو منتخب صوبائی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ایک سو اکسٹھ ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے۔ سنیچر کو ہونے والے اس اجلاس کی صدارت سندھ اسمبلی کے سپیکر مظفر حسین شاہ نے کی اور انہوں نے ہی اراکین سے حلف لیا۔ افتتاحی اجلاس میں حلف اٹھانے والوں میں پیپلز پارٹی کے نواسی، ایم کیو ایم کے اکیاون، مسلم لیگ(ق) کے آٹھ، مسلم لیگ(ف) کے نو جبکہ اے این پی اور این پی پی کے دو دو اراکین شامل تھے۔ سندھ اسمبلی میں کل ایک سو اڑسٹھ نشستیں ہیں تاہم افتتاحی اجلاس میں 161 اراکین نے حلف اٹھایا۔ اسمبلی کی سات نشستیں ایک رکن کے انتقال، عدالت میں معاملات زیر سماعت ہونے اور اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشست رکھنے کی وجہ سے فی الحال خالی ہیں۔ افتتاحی اجلاس کے موقع پر کراچی میں عموماً اور سندھ اسمبلی کے احاطے میں خصوصاً کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور بنا شناخت کے کسی کو اسمبلی کی عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ اراکین کی حلف برداری کے بعد سنیچر سے ہی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کے لیے نامزدگی فارم جاری کیئے جائیں گے اور مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے غیر مشروط طور پر سپیکر اور وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کے اعلان اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں’مفاہمت‘ کے بعد اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بلا مقابلہ کامیاب ہو جائیں گے۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں ڈیڈ لاک کے خاتمے اور دونوں طرف سے حالیہ اقدامات سے صورتحال میں تبدیلی آگئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان سنیچر کو مزید سیاسی پیش رفت کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کا پارلیمانی اجلاس بھی جمعہ کی شب ہوا، جس میں اراکین کو متحدہ قومی موومنٹ سے مذاکرات کےحوالے سے اعتماد میں لیا گیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا گیا، صوبائی صدر پیر صدرالدین شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزیراعلٰی کا انتخاب نہیں لڑے گی، مگر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ہر اچھے قدم کی حمایت اور برے کی مخالفت کی جائےگی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ق کے نو منتخب رکن غالب حسین ڈومکی کا کہنا ہے کہ مرکزی قیادت نے انہیں کوئی ہدایت نہیں کی ہے اور نہ ہی صوبائی قیادت لائحہ عمل بنا سکی ہے مگر ان کی رائے ہے کہ جس طرح وفاق میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اعتماد کا ووٹ دیا گیا ہے، اس طرح سندھ میں بھی کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حلف برداری کی تقریب کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔ دوسری جانب سندھ میں مسلم لیگ ن کسی نشست پر کامیابی حاصل نہیں کی ہے، مگر پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار کے قریب اراکین صوبائی اسمبلی نے پارٹی سے رابطہ کیا ہے جو میاں نواز شریف کی آمد کے موقع پر پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ | اسی بارے میں ایم کیو ایم نہیں: احسن اقبال04 April, 2008 | پاکستان پی پی، ایم کیوایم مفاہمت کمیٹی03 April, 2008 | پاکستان سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان متحدہ سے اتحاد، ایک کڑا امتحان24 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||