متحدہ سے اتحاد، ایک کڑا امتحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف کے ساتھ پانچ سال تک اقتدار میں رہنے اور ان کے ہر برے یا بھلے اقدام کی حمایت کرنے والی پارٹیوں میں سے ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس نے پیپلز پارٹی کے ساتھ غیرمشروط تعاون کا اعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں وزارت عظمٰی کے لیے پیپلز پارٹی کی سربراہی میں بننے والے حکومتی اتحاد کے نامزد امیدوار یوسف رضا گیلانی کی حمایت کر کے اپنی طرف سے اہم پیشرفت بھی کر دی ہے۔ آصف زرداری نے مرکز اور سندھ میں ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے اور ایم کیو ایم بھی اس پر آمادہ ہے مگر حکومتی اتحاد کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کو ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے پر کچھ تحفظات ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ’تحفظات بنیادی طور پر وہی ہیں جو گزشتہ آٹھ سال ایک فوجی آمر کی حمایت میں انہوں نے جو کام کیے اور پھر بارہ مئی کو کراچی میں جو واقعات ہوئے، مگر چونکہ انہوں نے ہماری اتحادی جماعت سے غیر مشروط تعاون کیا ہے اس لیے ان خدشات کے باوجود ہم پیپلز پارٹی کے لیے ان کی حمایت کے راستے میں نہیں آئیں گے‘۔ نومنتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا ایم کیو ایم کے بارے میں کہنا ہے کہ’ایم کیو ایم ایک سیاسی قوت ہے اور کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا اور ہم ان کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کے عمل کو فروغ دینے کے لیے ہم سے تعاون کیا ہے‘۔ مسلم لیگ نون کے تحفظات کے جواب میں ایم کیو ایم نے بھی اب تک سخت مؤقف نہیں اپنایا ہے بلکہ پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے مینڈیٹ کا بھی تہہ دل سے احترام کرتے ہیں لیکن برطرف ججوں کے معاملے پر وہ اب بھی اپنے پرانے مؤقف پر قائم ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر کہتے ہیں کہ’ہم عدلیہ کی آزادی کے لیے ہر طرح سے تعاون کرنے پر تیار ہیں اور آزاد عدلیہ بالکل ہونی چاہیے مگر ہم ان ججوں کی کبھی حمایت نہیں کریں گے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا ہوا ہے‘۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز ایک طرف تو چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کرنے کی بات کرتی ہے جس میں لکھا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے کسی جج کی حمایت نہیں کی جائے گی جبکہ دوسری طرف وہ انہی ججوں کو بحال کرنے کا بھی بات کرتی ہے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا ہے۔ دوسری طرف حکومت میں شامل ہونے کے باوجود مسلم لیگ نون معزول ججوں کے معاملے پر اب بھی سخت مؤقف پر قائم ہے۔ مسلم لیگ کے رہنما چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ’پچیس مارچ کو جب وزیراعظم حلف اٹھائیں گے اور حکومت قائم ہوجائے گی اس کے بعد الٹی گنتی شروع ہوجائے گی اور ہماری خواہش ہوگی کہ ان تیس دنوں کے ختم ہونے سے پہلے جتنا جلدی ممکن ہو ہم ججوں کو بحال کریں کیونکہ جمہوریت کے عمل کا آگے بڑھنا آزاد عدلیہ سے مشروط ہے‘۔ ایم کیو ایم اتحادی حکومت میں شامل ہوتی ہے یا نہیں، اس کا انحصار پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں کی سیاسی ضرورتوں پر ہے، لیکن مخلوط حکومت میں ایم کیو ایم کے ساتھ گٹھ جوڑ بنائے رکھنا پیپلز پارٹی کے لیے یقیناً کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا کیونکہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں کو ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کا تجربہ ہے لیکن ہر بار یہ اتحاد تلخی پر ہی ختم ہوا۔ | اسی بارے میں گیلانی وزارتِ عظمٰی کے لیے نامزد22 March, 2008 | پاکستان سندھ اسمبلی کا اجلاس 5 اپریل کو22 March, 2008 | پاکستان فاروق ستار: غیر مشروط دستبرداری 21 March, 2008 | پاکستان فاروق ستار کی جگہ اب پرویز الہی 22 March, 2008 | پاکستان ایم کیو ایم اور پی پی پی مفاہمت21 March, 2008 | پاکستان متحدہ غیر مشروط حمایت: زرداری21 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||