BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 March, 2008, 14:09 GMT 19:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متحدہ غیر مشروط حمایت: زرداری

آصف زرداری
زرداری اور الطاف حسین کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نے انہیں وزارتِ عظمٰی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جمعہ کو متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین سے فون پر حکومت سازی میں تعاون پر بات چیت کی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اس بات چیت کے دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پاکستان پیپلز پارٹی کے وزارتِ عظمٰی کے امیدوار کی حمایت کا غیر مشروط اعلان کیا۔

آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ الطاف حسین نے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کے امیدوار اور ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو دستبردار کروانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کے لیے ایم کیو ایم کے امیدوار فاروق ستار دستبردار ہو جائیں گے‘۔

ایک سوال پر آصف علی زرداری نے بی بی سی کو بتایا کہ ایم کیو ایم غیر مشروط طور پر ان کی جماعت کے وزیراعظم کو ووٹ دے گی جس کے بعد مرکز اور صوبہ سندھ میں بننے والی حکومتوں میں انہیں شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے پر پیپلز پارٹی کی ایک بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ادھر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے جس میں آصف علی زرداری اور الطاف حسین کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی روشنی میں مشاورت ہو رہی ہے۔

 ایم کیو ایم غیر مشروط طور پر پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کو ووٹ دے گی جس کے بعد مرکز اور صوبہ سندھ میں بننے والی حکومتوں میں انہیں شامل کیا جائے گا۔
آصف زرداری

یاد رہے کہ مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ممکنہ حکمران اتحاد کے لیے میدان خالی کھلا نہ چھوڑنے کا اعلان کرنے کے بعد فاروق ستار کو اپوزیشن کی جانب سے وزارتِ عظمٰی کا امیدوار مقرر کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں سابقہ حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) ، متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ (ف) تاحال نومنتخب قومی اسمبلی میں بننے والے حکومتی اتحاد میں شامل نہیں تھے اور حزب مخالف کی نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت کا کہنا ہے کہ فی الوقت ان کے علم میں یہ نہیں کہ فاروق ستار دستبرار ہوں گے اور ان کے مطابق ان کی جماعت سنیچر کو اس بارے میں اپنا لائحہ عمل طے کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد