ایم کیوایم، قاف لیگ کا اتحاد برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ان کی جماعت اسمبلیوں میں اپوزیشن کا مثبت کردار ادا کرےگی اور ماضی میں ان کی حلیف جماعت ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی مومنٹ اگر موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت سازی کے عمل میں شریک ہوتی ہے تو ان کی جماعت کو ایم کیو ایم پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تاہم ایم کیو ایم نے اب تک حکومت میں شامل ہونے یا اپوزیشن میں بیٹھنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے اپنی جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ اتوار کو کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ جب مسلم لیگ قاف کے رہنماء ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو پہنچے تو ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے ان کا والہانہ استقبال کیا جبکہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ویلکم، ویلکم کے نعرے بلند کیے۔ چودھری شجاعت حسین نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایم کیو ایم نے انہیں یقین دلایا ہے کہ ایم کیو ایم کا ان کی جماعت کے ساتھ اتحاد تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’لوگ سمجھ رہے ہیں کہ پپپلزپارٹی کے رہنماء نائن زیرو آئے تھے تو ہم بھی یہاں آئے ہیں تاکہ ایم کیو ایم کو حکومت سازی کے کسی بھی عمل سے روک سکیں، حالانکہ ایسی قطعی کوئی بات نہیں ہے اور ہم نے ان کو یہ باور کرایا ہے کہ صوبے اور عوام کی خاطر ایم کیو ایم جو بھی فیصلہ کرے گی ہماری جماعت ان کے فیصلے کی حمایت کرے گی۔‘ اس موقع پر ایم کے رہنماء اور نومنتخب ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بنیادی طور پر ایم کیو ایم کے پیشِ نظر اہم نکات میں امن و استحکام کا قیام اور اس کا تسلسل، جمہوریت کو فروغ اور سیاسی جمہوری نظام کو استحکام دینا، انتہا پسندی اور شدت پسندی کا خاتمہ کرنا، اقتصادی اور سماجی ترقی کے عمل کو تیز سے تیز تر کرنا، بنیادی سیاسی اصلاحات پر زور دینا، اور صوبوں کو مکمل صوبائی خودمختاری دینا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ وہ نکات ہیں جو ایم کیو ایم کی ترجیحات ہوں گی اور اگر ہم اپوزیشن میں بھی ہوں گے تو وہاں رہ کر بھی ہم اسی ایجنڈے پر جس حکومت کی مخالفت کر رہے ہوں گے اس کو پابند کریں گے کہ اس ایجنڈے کو پورا کرے جو ہمارا منشور اور پروگرام ہوگا۔‘ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور پانی کے ذخائر کو بڑھانے کے لیئے بھی عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان نکات پر ابھی بھی بات کی ہے اور جب پپلزپارٹی کا وفد آیا تھا تو ان کے ساتھ بھی ان ہی نکات پر بات کی گئی تھی۔ اس سے قبل چودھری شجاعت حسین نے اپنے رفقاء کے ساتھ نیشنل پپلزپارٹی کے سربراہ غلام مصطفٰے جتوئی سے ان کی رہائش گاہ واقع ڈیفنس میں ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ غلام مصطفٰے جتوئی نے کہا کہ قومی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں ان سے کسی بھی جماعت کے رہنماء نے اب تک رابطہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگ قاف کے ساتھ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ | اسی بارے میں پی پی پی متحدہ ملاقات’خوش آئند‘28 February, 2008 | الیکشن 2008 ’ایم کیو ایم کے لیے مقابلہ سخت؟‘17 February, 2008 | پاکستان سندھ حکومت: متحدہ کیوں اہم 21 February, 2008 | الیکشن 2008 سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی24 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 غیر مشروط تعاون: زرداری، الطاف22 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||