اعلانِ مری پر مِلا جلا رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختلف سیاسی جماعتوں نے بھوربن میں اعلانِ مری پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین نے ’اعلان مری‘ پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے تحت نئی وفاقی حکومت کی تشکیل کے ایک ماہ کے اندر پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعےعدلیہ کوگزشتہ برس دو نومبر کی حالت میں بحال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اجلاس میں پاکستان پپلزپارٹی کی جانب سے چاروں ممکنہ امیدوار شریک نہیں ہوئے جبکہ مخدوم امین فہیم کی عدم شرکت کو مختلف حلقوں میں محسوس کیا گیا۔ مخدوم امین فہیم کی غیرموجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں کومدعو کیا گیا تھا لیکن وہ مصروفیات کی وجہ سے نہیں آسکے۔ ’یہ کمیٹی ان کے لیے بہت چھوٹی تھی۔‘ مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ آصف زرداری نے ان سے بات نہیں کی تھی اور ان کا نام کمیٹی میں نہیں ڈالا گیا تھا جس کی وجہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی اختلاف نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پپلزپارٹی متحد رہے۔ وزیراعظم کی نامزدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے شریک چئرپرسن کے پاس اختیار ہے کہ وہ پارٹی میں کسی کو بھی وزیرِاعظم نامزد کرسکتا ہے تاہم ان کے بقول اس کے بعد جو بھی ہوگا ہم دیکھ لیں گے۔
اعلانِ مری پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا لیکن حکومت سازی کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔ جماعتِ اسلامی کے رہنماء قاضی حسین احمد نے پپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عدلیہ کو بحال کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ہم یہ دیکھیں گے کہ عدلیہ بحال ہوتی ہے یا نہیں اور اس میں رکاوٹیں کس طرح سے دور کی جاتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک صدر پرویز مشرف کا معاملہ ہے تو اس کو سپریم کورٹ کو ہی دیکھنا چاہیے جب افتخار محمد چودھری بحال ہوجائیں تو وہ اور دیگر جج حضرات جن میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج شامل نہ ہوں اس بات کو دیکھیں کیونکہ ان جج حضرات کو جب فارغ کیا گیا تھا اس وقت یہ ہی معاملہ عدالت میں زیرِبحث تھا۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر عدلیہ کو تین نومبر سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کیا جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ جج حضرات پہلے پی سی او کے تحت حلف اٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے ججوں کی نظر بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت بھارتی جاسوسوں کو رہا کر رہی ہے اور دوسری جانب ججوں کو غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا جارہا ہے۔ متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے پپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے مخلوط حکومت بنانے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا لیکن ججوں کی بحالی کے معاملے پر کہا کہ یہ اب بھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت جمہوریت کی بحالی اور اس کے استحکام کے لیے بنائی جارہی ہے تو ہم اس کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں لیکن جس طرح سے صدر مشرف کی پالیسیوں سے جو مختلف خیالی نظر آتی ہے تو ہمیں اس بات کا بھی ڈر ہے کہ کہیں اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں یرغمال نہ بنا لیا جائے۔ | اسی بارے میں ’ورکنگ ریلیشن شپ، تعین پارلیمان کرے گی‘26 February, 2008 | پاکستان پنجاب: دو تہائی اکثریت کا مظاہرہ08 March, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی اختلافات کا شکار08 March, 2008 | پاکستان ’ امریکہ کی خاطر مروایا جا رہا ہے‘ 02 March, 2008 | پاکستان پی پی کی ترجیحات کا اعلان22 February, 2008 | پاکستان بلوچستان: پی پی پی کی واضح اکثریت08 March, 2008 | پاکستان صدر کے استعفے کا مطالبہ25 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||