BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قائد ایوان کا انتخاب 24 مارچ کو

نامزد امیدوار کے تجویز یا تائید کنندہ کے دستخط درست نہ ہونے پر سپیکر وزیراعظم کے امیدوار کا فارم مسترد کرسکتا ہے
صدر پرویز مشرف نے قائدِ ایوان کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس چوبیس مارچ کو شام چار بجے طلب کیا ہے۔

صدر کے ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کے مطابق وزیراعظم کے دفتر سے جمعرات کو اجلاس بلانے کے لیے سمری ایوان صدر پہنچی اور صدر نے جمعرات کو اجلاس بلانے کے لیےاس پر دستخط کردیے۔

ماضی کی پارلیمانی روایات اور قوانین کے مطابق صدر، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے دو روز بعد، قائدِ ایوان یعنی وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس بلاتے ہیں لیکن اس بار عید میلاد النبی اور یوم پاکستان کی وجہ سے بظاہر اس میں تاخیر ہوئی ہے۔

اکیس مارچ اور تئیس مارچ کو عام تعطیل ہونے کی وجہ سے اب اجلاس پیر کی شام چار بجے ہوگا۔ قانون کے مطابق قائدِ ایوان کے امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی اجلاس کے دن سے ایک روز پہلے دو بجے تک سیکریٹری جنرل قومی اسمبلی کے پاس داخل کرنا لازم ہوتا ہے۔

لیکن اس بار جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے مطابق تئیس مارچ کو اتوار ہے اور عام تعطیل ہے۔ اس صورتحال کے بارے میں جب نو منتخب سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے پوچھا گیا تو انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزارت عظمیٰ کے لیے کاغذات نامزدگی اتوار کے روز دو بجے تک وصول کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز تئیس مارچ کی چھٹی ہونے کے باوجود قومی اسمبلی کے سیکریٹری کا دفتر کھلا رہے گا اور کاغذات نامزدگی وصول کیے جائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف زرداری نے ابتدائی سیشن میں شرکت کی تھی لیکن سپیکر کے انتخاب کے دن وہ اسمبلی نہیں آئے

گو صدر نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس بلا لیا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے جسے ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہے، تاحال وزیراعظم کے امیدوار کا اعلان نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے سرکردہر ہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری جمعرات کی رات کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور وہ پارٹی کے سینئر رہنماوں کی مشاورت کے بعد نئے وہ وزیراعظم کے نام کا اعلان کریں گے۔

پیپلز پارٹی میں وزیراعظم کی نامزدگی کے معاملے پر شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کے لیے صوبہ سندھ تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے انتخاب کے بعد اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ وزیراعظم کا امیدوار صوبہ پنجاب سے نامزد کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی کے نام پر پارٹی میں وسیع تر اتفاق رائے ہے اور ان کی نامزدگی کا اعلان آئندہ چوبیس گھنٹوں میں متوقع ہے۔

قانون کے مطابق سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے دو روز بعد اجلاس اس لیے بلایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب سے ایک دن پہلے دو پہر دو بجے تک امیدواروں پر قانونی طور پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل کے پاس نامزدگی داخل کریں۔

کوئی بھی ایسا شخص جسے قومی اسمبلی میں اراکین کی اکثریت حاصل ہو وہ اپنے ایک حامی رکن سے تجویز اور دوسرے سے تائید حاصل کرنے کے بعد اپنا نامزدگی فارم جمع کراسکتا ہے۔ نامزد امیدوار کے تجویز یا تائید کنندہ کے دستخط درست نہ ہونے پر سپیکر وزیراعظم کے امیدوار کا فارم مسترد کرسکتا ہے۔

اگر سپیکر کسی امیدوار کا نامزدگی فارم مسترد کردے تو انہیں اس کی تحریری وجوہات پیش کرنی ہوں گی اور قواعد کے مطابق سپیکر کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔ اگر کسی ایسی صورت میں جہاں صرف ایک امیدوار میدان میں رہ جائے تو انہیں بھی اراکین کی اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔

رولز کے مطابق اگر دو یا دو سے زیادہ وزیراعظم کے امیدواروں ہوں تو جسے بھی اسمبلی کے اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہوگی انہیں کامیاب قرار دیا جائے گا۔ اگر کسی امیدوار کو اراکین کی کل تعداد کی اکثریت حاصل نہیں ہوسکے تو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کو دوبارہ اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر یوسف رضا گیلانی جن کا نام بھی نئے وزیرِ اعظم کے طور پر لیا جا رہا ہے اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس عہدے کے لیے امیدوار نہیں ہیں

قومی اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد تین سو بیالیس ہے اور کسی بھی کامیاب امیدوار کو ایک سو بہتر اراکین کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔

سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے کرانا لازم ہے لیکن قائدِ ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب کھلی رائے شماری سے کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم کے انتخاب کے لیے جتنے امیدوار ہوتے ہیں اتنی لابیوں میں ان کے حامیوں کو جمع ہونے کا کہا جاتا ہے اور وہاں اراکین اسمبلی اپنا ووٹ دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی کا عملہ ہر رکن کا نام اور حلقہ نمبر بھی لکھتا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس رکن نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔

وزیراعظم کے طور پر جس شخص کو اکثریت حاصل ہوتی ہے اس کے بارے میں سپیکر فوری طور پر نتائج کے بارے میں صدر کو تحریری طور پر مطلع کرنے کا پابند ہے۔ نو منتخب قائد ایوان صدر مملکت سے وزیراعظم کا حلف لے گا۔ آئین کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کی مشاورت سے وزیر مقرر کرے گا جو ان کے ہمراہ یا بعد میں صدر سے حلف لے سکتے ہیں۔

ماضی کی روایات کے مطابق جس روز وزیراعظم منتخب ہوتے ہیں اُسی روز وہ اپنی کابینہ کے ہمراہ صدر سے حلف لیتے ہیں۔

آئین کی شق اکانوے کی ذیلی شق پانچ کے مطابق کوئی بھی شخص اس وقت تک وزیراعظم رہ سکتا ہے جب تک انہیں صدر کی خوشنودی حاصل رہے۔ لیکن اس شق میں یہ بھی لکھا ہے کہ صدر وزیراعظم کے خلاف اپنا اختیار اس وقت تک استعمال نہیں کریں گے جب تک انہیں یقین نہ ہوجائے کہ وزیراعظم کو ایوان کے اراکین کی اکثریت حاصل نہیں رہی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد