BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 March, 2008, 06:56 GMT 11:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی: اراکین نے حلف اٹھالیا

آصف زرداری
پیپلز پارٹی کے شریک چئر پرسن آصف زرداری
پاکستان کی نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس شروع ہو گیا ہے اور ملک کی سکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس اجلاس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

حلف لینے سے پہلے پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے سپیکر سے یہ وضاحت مانگی کے اراکین 1973 کے آئین کے تحت ہی حلف اٹھا رہے ہیں۔ اس پر سپیکر چوھدری امیر حسین وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلف انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق ہی ہے اور اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جس کے بعد انہوں نے اسمبلی کے نومنتخب اراکین سے حلف لیا۔

حلف اٹھانے کے بعد مسلم لیگ نواز کے احسن اقبال نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ انیس سو ننانوے کو شب خون مارا گیا تھا اور دو بڑے جمہوری قائدین آج یہاں موجود ہیں اور ان کی موجودگی کو سراہا جائے۔ اس پر سپیکر نے ان کی موجودگی کو سراہا۔

نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما میاں نواز شریف

قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے بہت سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بڑی تعداد میں پولیس کی نفری موجود ہے اور تمام افراد کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ صحافیوں کو اس سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل پاکستان کی نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس تاخیر سے شروع ہوا کیونکہ پہلے اجلاس سے قبل پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس جاری تھے۔

 پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چاک پر بینرز لگے ہیں جن پر لکھا ہے 'امین فہیم مخدوم بنو، لغاری نہ بنو'۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ یہ ایجنسیوں کی سازش ہے اور ان بینرز کو ابھی ہٹا دیے جائیں گے

پاکستان مسلم لیگ قاف اور متحدہ قومی موومنٹ کا پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین بھی موجود تھے۔

دوسری طرف قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، اعتزاز احسن، مخدوم امین فہیم، رضا ربانی، جمیعت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی کی رضا ربانی کے چیمبر میں مشاورت رہی۔ اور کہا جا رہا تھا کہ اس مشارورت میں مخدوم امین فہیم کو راضی کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔

پارلیمنٹ کے سامنے پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کی ایک بہت بڑی تصویر لگائی گئی ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ کے سامنے ڈی چاک پر بینرز لگے ہیں جن پر لکھا ہے 'امین فہیم مخدوم بنو، لغاری نہ بنو'۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ یہ ایجنسیوں کی سازش ہے اور ان بینرز کو ابھی ہٹا دیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد