BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 March, 2008, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سول صدر پارلیمان کا اجلاس جلد بلاتے ہیں

جمالی اور مشرف
پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تاخیر دو ہزار دو میں ہوئی جب قومی اسمبلی کے نمائندگان نے چھتیس دن بعد حلف اٹھایا۔
سنہ انیس سو پچاسی سے پاکستان میں انتخابات کے بعد پارلیمان کا پہلا اجلاس طلب کرنے پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اجلاس طلب کرنے میں تاخیر یا زیادہ وقت ایک فوجی آمر کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے پر لگتا ہے۔

سنہ انیس سو پچاسی کے انتخابات جو کہ غیر جماعتی بنیاد پر ہوئے تھے اس وقت جنرل ضیاء الحق صدر کے منصب پر فائز تھے۔ سنہ پچاسی کے انتخابات پچیس فروری کو ہوئے اور پارلیمان کا پہلا اجلاس چوبیس روز بعد بیس مارچ کو طلب کیا گیا۔ صدر پاکستان کے نامزد کردہ وزیر اعظم کے امیدوار محمد خان جونیجو نے چوبیس مارچ یعنی کہ اٹھائیس روز بعد پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

اسی طرح سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں جنرل پرویز مشرف بھی صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ انتخابات دس اکتوبر کو ہوئے جبکہ قومی اسمبلی کے نمائندگان نے چھتیس دن بعد سولہ نومبر کو حلف اٹھایا۔ جبکہ انیس نومبر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات ہوئے جس میں چوہدری امیر حسین سپیکر اور سردار یعقوب ڈپٹی سپیکر کے طور پر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے وزیر اعظم کا حلف تینتالیس دن بعد تئیس نومبر کو اٹھایا۔

اس کے مقابلے میں سول صدر کے ہوتے ہوئے جو انتخابات ہوئے ان میں پارلیمان کا پہلا اجلاس بلانے میں تاخیر نہیں کی گئی۔

سنہ انیس سو اٹھاسی کے انتخابات سولہ نومبر کو منعقد ہوئے جب کہ صدر غلام اسحٰق خان نے پارلیمان کا پہلا اجلاس چودہ روز بعد تیس نومبر کو طلب کیا۔ معراج خالد قومی اسمبلی کے سپیکر کے طور پر تین دسمبر کو منتخب ہوئے۔ جبکہ بینظیر بھٹو نے وزیر اعظم کا حلف دو دسمبر یعنی سولہ روز بعد اٹھایا۔

اسی طرح سول صدر کے ہوتے ہوئے انیس سو نوے کے انتخابات چوبیس اکتوبر کو ہوئے اور صدر غلام اسحٰق خان نے پہلا پارلیمانی اجلاس دس روز بعد تین نومبر کو طلب کیا گیا۔ اس پارلیمان کے سپیکر گوہر ایوب چار دسمبر کو منتخب ہوئے اور انتخابات کے سترہ روز بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گیارہ دسمبر کو حلف اٹھایا۔

سولہ نومبر 988 کے انتخابات کے بعد صدر غلام اسحٰق خان نے پارلیمان کا پہلا اجلاس چودہ روز بعد تیس نومبر کو طلب کیا۔

پاکستان کی دسویں قومی اسمبلی کے انتخابات انیس سو ترانوے کو چھ اکتوبر کو ہوئے۔ اس پارلیمان کا اجلاس قائمقام صدر وسیم سجاد نے نو دن بعد یعنی پندرہ اکتوبر کو طلب کیا۔ اس پارلیمان کے سپیکر سید یوسف رضا گیلانی سترہ اکتوبر کو منتخب ہوئے۔ اور وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے انتخابات کے تیرہ روز بعد انیس اکتوبر کو حلف لیا۔

سول صدر کے ہوتے ہوئے انیس سو ستانوے کے انتخابات تین فروری کو منعقد ہوئے اور صدر پاکستان سردار فاروق احمد لغاری نے پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس بارہ روز بعد پندرہ فروری کو طلب کیا۔ اس اجلاس کے اگلے ہی روز الٰہی بخش سومرو سپیکر منتخب ہوئے اور الیکشن کے تیرہ دن بعد چودہ روز بعد یعنی سترہ فروری کو وزیر اعظم میاں نواز شریف نے حلف اٹھایا۔

پاکستان میں اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کو ہوئے عام انتخابات کو دو ہفتے گزر چکے ہیں اور نئی پارلیمان کا اجلاس ابھی تک طلب نہیں کیا گیا۔

یہ درست ہے کہ الیکشن کمیشن کے حتمی نتائج کے بعد ہی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔ اور الیکشن کمیشن نے حتمی نتائج کا اعلان یکم مارچ کو کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر جلد اجلاس طلب کر لیں تاکہ سیاسی جماعتوں پر بھی وزیر اعظم کے امیدوار کو نامزد کرنے کا دباؤ ہو۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی چیف کی وضاحت
’شفاف انتخابات، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری‘
انتخاباتغیر یقینی صورتحال
کیا موجودہ حکومت انتخابات کرا پائےگی؟
شوکت عزیزالیکشن نہیں لڑوں گا
’آٹھ سال کی محنت کے بعد کچھ آرام چاہتا ہوں‘
پرویز مشرفجمالی کیوں گئے؟
آخر جمالی اور مشرف میں اختلافات کیا تھے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد