’ہمیں تو چاہیے غریبی فقیری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ ملک کا نیا وزیراعظم صوبہ سندھ سے ہواور امین فہیم کے ساتھ دوسرے لوگ بھی وزارت عظمٰی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ آصف زرداری کےاس بیان نے جماعت کے اندر اور باہر بات واضح کر دی ہے کہ ہالا کےمخدوم کا ستارہ چمکنے میں ابھی دیر ہے ۔انہیں جماعت کی اندرونی لغت کےمطابق، بینظیر بھٹو کی کرسی، اتنی آسانی سے نہیں ملنے والی۔ اگر امین فہیم کو وزیراعظم نامزد نہ کیا گیا تو ہالا کے مخدوموں اور پیپلزپارٹی کےدرمیان تلخ لمحوں میں ایک اضافہ ضرور ہوگا۔ امین فہیم باغی طبیعت کے مالک نہیں ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جو شخص بینظیر بھٹو کی باتوں اور رویوں کی تلخی برداشت کرتا رہا ہے وہ آصف علی زرداری کا تلخ لہجہ بھی اسی خاموشی سے برداشت کرے گا۔ سہروردی سلسلے کے خلیفہ اور سرور نوح کی اولاد ہالا کےمخدوم تضادات میں بھی بظاہر بڑے سکون کی زندگی گزارتے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کےذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد جب پیٹریاٹ بننے لگے اور اقتدار پیپلزپارٹی کے ہاتھوں سےنکل گیا تو دبئی میں بی بی کی امین فہیم سے تلخ ملاقات ہوئی۔
دونوں درمیان باتوں کی گرمی اتنی بڑھ گئی کہ مخدوم امین فہیم نے اپنے پی ایس اسلم پیرزادہ کو ان کی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان میڈیا کو جاری کرنے کے لیے کہا۔ وہ معروف گلوکارہ رونا لیلیٰ کی بہن اور اپنی دوسری بیوی دینا لیلیٰ سے بیٹے مخدوم نجیب کے گھر پر دلبرداشتہ ہو کر پہنچے۔ پاکستان میں ان کےرفقاء نے آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کو صورتحال سے آگاہ کیا اور کہتے ہیں کہ بینظیر خود گاڑی لے کر دبئی میں مخدوم نجیب کےگھر پہنچیں اور امین فہیم کی ریٹائرمنٹ کا اعلان واپس ہوا۔ تلخیاں کبھی کبھار فاصلے بڑھا دیتی ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ہالا کےمخدوموں کے درمیاں فاصلوں کی ایک نشانی ان کے چھوٹے بھائی مخدوم خلیق الزماں ہیں جن کے بے نظیر بھٹو سے اختلافات ختم نہ ہو سکے۔ مخدوم خلیق ہالا کی گدی کے وہ واحد فرد ہیں جو ضیاءالحق کی آمریت کےدنوں میں ساڑھے چار برس اپنے مریدوں و کارکنوں کے ہمراہ قید رہے۔ پیپلزپارٹی اور ہالا کےمخدوموں کےدرمیاں تلخیوں کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ امین فہیم خود کےوالد مخدوم طالب المولٰی نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں بھی کوئی اہم عہدہ نہیں مانگا۔ کہتے ہیں کہ جب صدر، وزیراعظم اور فوج کے سربراہ کےاختیارت بھٹو کے پاس تھے تو انہوں نےاپنی جماعت کے سینئر وائس چیئرمن طالب المولٰی کو پیشکش کی کہ وہ جو منصب لینا چاہیں انہیں آگاہ کریں۔ طالب المولٰی نے دو دنوں کی مہلت طلب کی تو ذوالفقار بھٹو کچھ پریشان ہوئے اور قریبی ساتھیوں سے معلوم کیا کہ کہیں وہ صدر یا وزیراعظم کی مانگ تو نہ کر بیٹھیں گے۔ دو دنوں کے بعد جب طالب المولٰی پہنچے تو انہوں نے ابتدائی کلمات میں کہا جناب چھوٹا منہ بڑی بات ہوگی اگر مناسب سمجھیں تو اس ناچیز کو سندھی ادبی بورڈ کا چیئرمین مقرر کردیں۔
مخدوم طالب المولٰی کو بھٹو کےساتھ ایک تلخ تجربہ تب ہوا جب وہ اپنے بیٹے مخدوم خلیق الزماں کی شادی کا دعوت نامہ لےکر وزیراعظم بھٹو کےدفتر پہنچے تھے ۔مخدوموں کے پاس ایک داستان ہے کہ جب طالب المولٰی دفتر کا دروازہ کھول کر اندر پہنچے تو ذوالفقار بھٹو نے انہیں سندھی زبان میں تلخ لہجے میں باہر انتظار کرنےکو کہا۔ طالب المولٰی سے تلخی برداشت نہ ہوئی، دعوت نامہ دفتر میں چھوڑا اور پہلی پرواز سے واپس کراچی پہنچے۔ بھٹو کو معلوم ہوا تو انہوں نے صوبائی سیکریٹری داخلہ محمد خان جونیجو کو طالب المولٰی کو حراست میں لینےاور واپس اسلام آباد بھیجنے کےاحکامات جاری کیے۔ مگر وزیراعلٰی غلام مصطفٰی جتوئی نے انہیں ہسپتال پہنچایا اور بھٹوکی تلخی نرمی میں تبدیل ہوئی۔ بھٹو جب مخدوم خلیق الزماں کی شادی میں شریک ہونے پہنچے تو سندھی اجرک کی پگڑی پہنے مخدوم طالب المولٰی ایک گھنٹے تک حویلی سےشامیانے کےاندر نہ آسکے تھے۔ پرنم آنکھوں سےجب وہ پنڈال میں پہنچے تو بھٹو نے جھک کر انہیں بغلگیر کیا۔ ہالا کی درگاہ سرور نوح کے سترہویں گدی نشین مخدوم امین فہیم ان حالات میں یقیننًا اپنے والد کی شاعری کا سہارا لیتے ہونگے جنہوں نے ایک شعر میں کہا تھا۔ ’ہمیں کام نہ آئی مخدومی پیری پیپلز پارٹی کا کوئی سینئر وائس چیئرمین کبھی اتنا اہم نہیں ہوا جتنا اٹھارہ فروری کےانتخابات کے بعد امین فہیم بن گئے ہیں۔ مگر پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے مخدوم کو اپنا حصہ ملے گا لیکن ضروری نہیں کہ وزارت عظمٰی ملے۔ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بینظیر بھٹو کےانیس ترانوے کے دور اقتدار میں بھی امین فہیم کو ایک سال بعد وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان غیر مشروط تعاون: زرداری، الطاف22 February, 2008 | پاکستان مل کر حکومت بنائیں گے21 February, 2008 | پاکستان اقتدار صرف نئے نظام کے لیے: زرداری14 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||