حکومت سازی کی مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مسلم لیگ نون کو ٰمیٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھوٰٰ کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے‘۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے ایسے وقت میں کہی ہے جب پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نون ان دنوں وفاق اور صوبوں میں مشترکہ حکومت سازی کے لیے مذاکرات کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ اس عمل میں چونکہ دونوں پارٹیوں کی’ٹاپ لیڈر شپ‘ شریک ہے اس لیے دوسرے درجے کی قیادت یہ ہمت تو نہیں کرسکتی کہ کوئی ایسی بات کہے جس سے ان مذاکرات کے مشکل پڑ جانے کا تاثر ملے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کچھ توایسا ضرور ہے جو ابھی تک حل نہیں ہو پایا۔ بنیادی مسئلہ مسلم لیگ نون کا ہے۔ ایک طرف تو مرکزی حکومت میں شامل ہونے سے ان کار اور دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزرات اعلی لینے پر اصرار ہے۔ مسلم لیگ نون نے معزول عدلیہ کی بحالی کے نام پر ووٹ لیا ہے جبکہ خود ان کے ذاتی اقتدار کی راہ میں وہ سترہویں ترمیم حائل ہے جس کی ایک شق کے تحت تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بننے پر پابندی ہے۔شاید یہ وہ واحد قانون ہے جس کی زد میں فی الوقت پورے ملک میں صرف ایک ہی شخص آرہا ہے اور اس کا نام ہے میاں محمد نوازشریف۔ ان کا تیسرا بڑا مسئلہ صدرپرویز مشرف ہیں جنہوں نے ان کی دوتہائی حکومت کا تختہ الٹا،انہیں گرفتار کیا اور ایسے حالات میں رکھا کہ نواز شریف کو اپنی موت نظر آنے لگی تھی۔نواز شریف صدرمشرف کو چلتا کرنا چاہتے ہیں۔
اگرچہ یہ تینوں کام پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں نہ اس نے عوام سے ان کے نام پر ووٹ لیا۔ لیکن بہرحال مسلم لیگ نون کو ان تنیوں کاموں کی تکمیل کے لیے دوتہائی اکثریت اور پیپلز پارٹی کاساتھ درکار ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ جس دن مسلم لیگ نون کے یہ تینوں مسئلے حل ہوگئے اس دن کے بعد سے آصف زرداری کو ایک نیا اور بدلا ہوا نوازشریف ملے گا۔ ان کاموں کے ہوجانے کے بعد وہ کسی حد تک اپنے ووٹروں کی نظروں میں سرخرو ہوجائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی ذاتی انا کو بھی تسکین پہنچ جائےگی۔ اس کے بعد ان کا اگلا کام آئندہ انتخابات کی تیاری ہوگی وہ بھی ان حالات میں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا اقتدار ان کے ہاتھ میں ہوگا۔ نواز شریف اپنے پری الیکشن بیانات میں دو سال میں دو سے تین انتخابات ہونے کے امکانات ظاہر کرچکےہیں۔ اگلے اقدامات وہ سرعت سے کرتے چلے جائیں گے،پنجاب میں اپنی سیاسی حثیت کو مستحکم کریں گے۔پنجاب کی دیہی سیاست سورج مکھی کے اس پھول کی مانند ہے جو اقتدار کی سورج کی طرف رخ پھیرتی چلی جاتی ہے۔تھانے کچہری میں کام کروانے کی اہلیت رکھنے والے کو ووٹ ملتا ہے۔ پنجاب میں عوامی مینڈیٹ نےاقتدار کی دیوار پر مسلم لیگ نون کے نام کا شہد ٹپکا دیا گیا ہے اوراب اس پر مکھیاں بیٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ ستر فی صد آزاد امیدوار مسلم لیگ نون میں شامل ہوگئے ہیں جبکہ بلدیاتی اداروں میں تحاریک عدم اعتماد تیار ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ مسلم لیگ نون نے اس ارتقائی عمل سے گذرنا شروع کر دیا ہے جو اقتدار میں آتی مسلم لیگوں کا خاصہ رہاہے۔ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ یہ تو وہ ثمرات ہیں جنہیں سمیٹنے کے لیے شریف برادارن بے تاب ہوئے جارہے ہیں جبکہ مرکزی کابینہ میں شامل نہ ہوکر تمام کڑوے کسیلے فیصلے ان کے لیے چھوڑے دیے جائیں گے۔ پہلا تلخ فیصلہ پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی طورپر روکی گئی قیمتوں میں حقیقی اضافہ ہے۔اس کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا جس کا سامنا اس پارٹی کو کرنا ہوگا جو مرکزی اقتدار میں بیٹھی ہوگی۔ اگلا پل صراط نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔اس میں امریکی مطالبات اور پھر ان کی تکمیل کے حوالے سے جواب طلبیاں ہیں۔
صوبوں کی خود مختاری کے مطالبات اور ان کے درمیان وسائل کی تقسیم، علیحدگی پسندی کی شورشوں ،شدت پسندی بدامنی سے نمٹنا اور پانی بجلی اور گیس کی قلت ایسے مسائل ہیں جن پر یقینی طور پر غیر مقبول فیصلے کرنے پڑیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنماکے بقول اگر مسلم لیگ نون کو مرکزی کابینہ میں شامل نہ کیا گیا تویہ ساری غیر مقبولیت کی پیپلز پارٹی بلاشرکت غیرے کے حصے میں آئے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی وہ اہم معاملات ہیں جو دونوں پارٹیوں کو الجھائے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا ایک بڑے حلقے کا موقف ہے کہ ساجھے داری وہ جس میں نفع نقصان برابر کا ہو لیکن ان کے بقول مسلم لیگ نون ذمہ داریوں سے بچنا چاہتی ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ یہ بات دونوں پارٹیوں کی لیڈر شپ بھی بھانپ گئی ہے کہ یہ کاٹھ کی ہنڈیا ہے جو زیادہ دیر چڑھے نہیں رہ سکتی۔ شائد اسی لیے حل یہ نکالا گیا ہے کہ تمام اہم فیصلے دونوں پارٹیوں کے ہنی مون پیرئڈ یعنی محبت کے ابتدائی ایام میں انجام دے دئیے جائیں۔ | اسی بارے میں سندھ کے چیلنج اور حکومت سازی24 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری،ولی مخلوط حکومت پرمتفق21 February, 2008 | الیکشن 2008 ’مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں‘ مشرف20 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی کی کوششوں کا آغاز20 February, 2008 | الیکشن 2008 زرداری کے خلاف تفتیش پر زور20 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان کا سیاسی منظر تبدیل، مشرف حامیوں کی ہار19 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مستعفی ہو جائیں: زرداری19 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||