BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 March, 2008, 10:00 GMT 15:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیاریاں: سرکاری خرچ پر ہوٹل بُک

پارلیمنٹ لاجز(فائل فوٹو)
پارلیمنٹ لاجز میں تین سو اٹھاون رہائشی فلیٹس ہیں
سترہ مارچ کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے لیے نومنتخب ارکان پارلیمان کو ٹھہرانے کے لیے پارلیمنٹ لاجز میں رہائشی کمروں کی عدم دستیابی کے باعث قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام نے چھ یوم کے لیے اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے علاوہ تھری سٹار ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز میں کمرے بُک کروا لیے ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے کمروں کی بکنگ کا کام اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو سونپا جس نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے عملے کی مدد سے مختلف ہوٹلوں میں کمرے بک کروائے ہیں۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مختلف ہوٹلوں میں ستر سے زائد کمرے بک کروائے گئے ہیں اور ان کمروں کی بکنگ سنیچر پندرہ مارچ سے لیکر اکیس مارچ تک ہوگی اور ان نومنتخب ارکان اسمبلی کی رہائش اور کھانے پینے کے تمام اخراجات قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ میلوڈی میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل میں پچیس کمرے بک کروائے گئے ہیں جبکہ باقی کمرے تھری سٹار ہوٹلز اور گیسٹ ہاوسز میں بک کروائے گئے ہیں۔

اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں زیادہ کمرے ابھی تک ان افراد کے زیرِ استعمال ہیں جو صدر مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے دور میں ارکان قومی اسمبلی تھے۔ سابق دور حکومت میں متعدد وزراء نے بھی سرکاری رہائش گاہیں حاصل کرنے کے باوجود پارلیمنٹ لاجز میں بھی کمرے لیے ہوئے تھے۔

اس ضمن میں ڈائریکٹر میڈیا قومی اسمبلی محمد طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نومنتخب ارکان قومی اسمبلی کے لیے ہوٹلوں اور دوسری جگہوں پر رہائش کے انتظامات کرنا معمول کی بات ہے۔

فائیو سٹار ہوٹل میں پچیس کمرے بک کروائے گئے ہیں(فائل فوٹو)

انہوں نے کہا کہ نومنتخب ارکان قومی اسمبلی کے لیے بلوچستان ہاؤس، پنجاب ہاؤس، سندھ ہاؤس اور فرنٹیئر ہاؤس میں کمرے بک کروائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں جیتنے والے جو ارکانِ اسمبلی گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے ہیں وہ پارلیمنٹ لاجز میں انہی کمروں میں رہ رہے ہیں جو انہیں گزشتہ انتخابات جیتنے کے بعد الاٹ ہوئے تھے جبکہ جن افراد کو شکست ہوئی ہے ان کی جگہ اُسی حلقے سے جیتنے والے افراد کو وہ رہائشی فلیٹس الاٹ کر دیےگئے ہیں۔

محمد طارق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جیتنے والے افراد کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شکست کھانے والے ارکان قومی اسمبلی نے رہائشی فلیٹس خالی کرنے کے لیے وقت مانگا ہے اور وہ بتدریج اپنا سامان شفٹ کر کے فلیٹ خالی کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر پارلیمنٹ فضل اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت پارلیمنٹ لاجز میں تین سو اٹھاون رہائشی فلیٹس ہیں جن میں سے دو سو اٹھہتر ارکان قومی اسمبلی جبکہ اسّی رہائشی فلیٹس سینیٹ کے ارکان کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے کوٹے میں سے دو سو بیس کمرے زیر استعمال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیس سے زائد کمرے ابھی تک ان افراد کے زیر استعمال ہیں جنہیں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں شکست ہوئی جبکہ پارلیمنٹ لاجز میں اٹھائیس فلیٹس ابھی تک خالی ہیں۔

فضل اکبر کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو رہائشی سہولتیس فراہم کرنے کے لیے مزید ایک سو رہائشی فلیٹس تعمیر کیے جائیں گے اور اس منصوبے کی پی سی ون کی منظوری ہوچکی ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع ہوگا۔

دریں اثناءاسلام آباد پولیس کے حکام نے ان ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز میں جہاں نومنتخب ارکان قومی اسمبلی کو ٹہرایا گیا ہے، وہاں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کردئیےگئے ہیں ۔ اس کے علاوہ سترہ مارچ کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے موقع پر شہر میں امن وامان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس سمیت دیگراہم عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے ا ہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔وزارت داخلہ میں ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے سلسلے میں کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لےگا۔ ادھر اسلام آباد پولیس کے حکام نے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو وائرلیس کے ذریعے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پولیس کا گشت بڑھانے کے علاوہ مشکوک افراد پر بھی نظررکھیں، اس کے علاوہ ان کے علاقوں میں واقع گیسٹ ہاوسز میں رہائش پذیر افراد کی بھی جانچ پڑتال کریں۔

پولیس اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں آوارہ گھومنے والے افراد کو پکڑ کر تھانے میں بند کردیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد