سپیکر کا انتخاب کیسے ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو منتخب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس پیر سترہ مارچ کو ہورہا ہے جس میں اراکین اسمبلی کو حلف اٹھوایا جائے گا اور نئے سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور قائد ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔ قانون اور ماضی کی روایات کے مطابق سترہ مارچ کو سابقہ اسمبلی کے سپیکر (چودھری امیر حسین) نو منتخب اراکین سے حلف لیں گے اور اپنے جان نشین کے انتخاب کے لیے شیڈول کا اعلان کریں گے۔ اگر سپیکر دستیاب نہیں ہوں تو قواعد کے مطابق اجلاس کی صدارت کے لیے صدر کسی اور کو نامزد کریں گے۔ قومی اسمبلی کے قاعدہ نمبر نو کے مطابق سپیکر کے انتخاب کے لیے دن بارہ بجے سے پہلے نامزدگی فارم داخل کرنا لازم ہے۔ جس سے یہ واضح ہے کہ سترہ مارچ کو سپیکر کے لیے نامزدگی فارم داخل نہیں ہوسکیں گے کیونکہ حلف کے لیے اجلاس گیارہ بجے بلایا گیا ہے۔ حلف لینے کے بعد ہر رکن کو ’رول آف میمبرز‘ پر دستخط کرنا ہوتا ہے اور سوا تین سو سے زیادہ اراکین کا دستخط کرتے کرتے سپیکر کی نامزدگی کا وقت ختم ہوچکا ہوگا۔ سابقہ اسمبلی کے سپیکر اٹھارہ مارچ کو بارہ بجے سے پہلے سپیکر کے امیدواروں سے نامزدگی فارم وصول کریں گے اور ان کی جانچ پڑتال کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست کا اعلان کریں گے۔ قواعد اور پارلیمانی روایت کے مطابق اگر سپیکر کے عہدے کے لیے دو سے زیادہ امیدوار ہوں تو جیتنے والے امیدوار پر لازم ہے کہ دیگر امیدواروں کے حاصل کردہ جملہ ووٹوں سے زیادہ ووٹ حاصل کرے۔ بصورت دیگر سب سے کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کو نکال کر باقی امیدواروں کے درمیاں دوبارہ ووٹنگ ہوگی۔ نومنتخب سپیکر اپنے نائب یعنی ڈپٹی سپیکر کے انتحاب کے لیے یہی طریقہ اختیار کرے گا۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتحاب کے بعد اجلاس ملتوی کیا جائے گا۔ سپیکر قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول جاری کرے گا اور کوئی بھی امیدوار تجویز اور تائید کنندہ اراکین اسمبلی سے اپنا نامزدگی فارم دن دو بجے تک قومی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل کے پاس جمع کرا سکے گا۔ سپیکر امیدواروں یا ان کے تجویز اور تائید کنندگاں کی موجودگی میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کرے گا اور قائد ایوان کے انتحاب کے لیے اجلاس کی کارروائی سے پہلے تمام امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرے گا۔ قائد ایوان کے کامیاب امیدوار پر لازم ہے کہ ایوان کے کل اراکین (تین سو بیالیس) کی اکثریت یعنی کم از کم ایک سو بہتر اراکین کے ووٹ حاصل کرے۔ منتخب قائد ایوان وزیراعظم بنے گا اور اپنی کابینہ کے ہمراہ صدر مملکت سے حلف لے گا۔ وزیراعظم کو تین روز کے اندر قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نوید قمر جو سابقہ اسمبلی کی قواعد و ضوابط اور ایوان کے امور چلانے کے بارے میں کمیٹی کے رکن بھی رہے، ان کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر اکیس مارچ کو قائد ایوان کا انتخاب ہوجانا چاہیے اور اس عمل میں تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے بعد اگر قائد ایوان کے انتحاب کے لیے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر کی تو وہ سپیکر کو اجلاس رکیوزٹ کرنے کی درخواست دیں گے۔ | اسی بارے میں اسمبلی اجلاس 17 مارچ کو طلب11 March, 2008 | پاکستان الیکشن کے سرکاری نتائج کا اعلان01 March, 2008 | الیکشن 2008 پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل26 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مخالفوں کی عددی قوت کامظاہرہ27 February, 2008 | الیکشن 2008 ’وزارت عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوں‘20 February, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے لیے کمر توڑ نتائج19 February, 2008 | پاکستان چاروں صوبوں میں مختلف جماعتیں18 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||