BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 27 February, 2008 - Published 08:26 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف مخالفوں کی عددی قوت کامظاہرہ

نواز شریف
مسلم لیگ نون قاف لیگ کو اپنے ساتھ ملانے پر تیار نہیں:نواز شریف
پاکستان کے عام انتخابات میں برتری حاصل کرنے والے اتحادی جماعتیں بدھ کو اسلام آباد میں اپنی پارلیمانی قوت اور سابق حکمرانوں پر اپنی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اس کے بعد مشرف صاحب کے پاس کوئی جواز نہیں رہے جائے گا کہ وہ نئی پارلیمان کا اجلاس نہ بلائیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین، مسلم لیگ نون، عوامی نیشنل پارٹی کے نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کے علاوہ ان تمام آزاد اور چھوٹی بڑی جماعتوں کے اراکین شرکت کر رہے ہیں جو اصولی طور پر ایک اتحاد کی شکل میں نئی حکومت بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، مخدوم امین فہیم، مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف، صدر شہباز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی خان بھی شرکت کررہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نومنتخب اراکین وفاقی دارالحکومت پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں شریک اراکین اسمبلی کی تعداد پاکستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بہت سی باتیں طے کردے گی۔

اتحادی جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ وہ تمام پارٹیوں کے اجلاس میں اپنی دوتہائی اکثریت ظاہر کردیں۔ قومی اسمبلی کی یہ ممکنہ دوتہائی اکثریت صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادے گی۔

یہ دوتہائی اکثریت صدر مشرف کے مواخذے اور ان کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں ہم خیال گروپ کا قیام اسی سمت ایک قدم قراردیا جاسکتاہے۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف ایک غیر آئینی صدر ہیں اور ان کی اہلیت کا فیصلہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں بحال ہونے والی عدلیہ کرے گی۔

منگل کو میاں نواز شریف نے مسلم لیگ کی پنجاب کی مجلس عاملہ کے اراکین سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی اور پیپلز پارٹی کے درمیان عدلیہ کی بحالی کا ایک تحریری معاہدہ طے پاچکا ہے جس میں عدلیہ کی بحالی کا طریقہ کار بھی درج ہے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ’یہ اجلاس ہم اس لیے بلارہے ہیں تاکہ مشرف صاحب کوبتادیں کہ دیکھوقومی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت بیٹھی ہے۔اب کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے۔‘

نواز شریف نے کہا کہ ’یہ کوئی جمالی کو وزیر اعظم بنانے کی بات نہیں ہے کہ اجلاس بلانے میں دو دو تین تین مہینے کی تاخیر کی جائے۔‘

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نئے اجلاس میں یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ کون کون سے گروپ اور کون کون سے آزاد امیدوار درحقیقت نئی مجوزہ مخلوط حکومت میں شامل ہورہےہیں اور کون اب صدر پرویز مشرف کے کیمپ میں رہ گیا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے۔

سندھ یا مسائلستان
حکومت سازی اور آئندہ چیلنجز
جیتامید کی ایک کرن
پاکستان میں نئی حکومت سے جنوبی ایشیاء پُرامید
بیلٹ باکسدھاندلی ڈاٹ کام
سندھ میں مبینہ دھاندلی ثبوت نیٹ پر
ایم کیو ایم متحدہ اپوزیشن میں
سندھ: ایم کیو ایم آئندہ حکومت میں شامل نہیں
آصف زرداریمنتقلی اقتدار میں دیر
عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟
اسی بارے میں
پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل
26 February, 2008 | الیکشن 2008
نئی حکومت: امید کی ایک کرن
23 February, 2008 | الیکشن 2008
حکومت سازی،ملاقاتیں شروع
21 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد