مشرف مخالفوں کی عددی قوت کامظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے عام انتخابات میں برتری حاصل کرنے والے اتحادی جماعتیں بدھ کو اسلام آباد میں اپنی پارلیمانی قوت اور سابق حکمرانوں پر اپنی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اس کے بعد مشرف صاحب کے پاس کوئی جواز نہیں رہے جائے گا کہ وہ نئی پارلیمان کا اجلاس نہ بلائیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین، مسلم لیگ نون، عوامی نیشنل پارٹی کے نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کے علاوہ ان تمام آزاد اور چھوٹی بڑی جماعتوں کے اراکین شرکت کر رہے ہیں جو اصولی طور پر ایک اتحاد کی شکل میں نئی حکومت بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، مخدوم امین فہیم، مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف، صدر شہباز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی خان بھی شرکت کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نومنتخب اراکین وفاقی دارالحکومت پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں شریک اراکین اسمبلی کی تعداد پاکستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بہت سی باتیں طے کردے گی۔ اتحادی جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ وہ تمام پارٹیوں کے اجلاس میں اپنی دوتہائی اکثریت ظاہر کردیں۔ قومی اسمبلی کی یہ ممکنہ دوتہائی اکثریت صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادے گی۔ یہ دوتہائی اکثریت صدر مشرف کے مواخذے اور ان کے اسمبلی توڑنے کے اختیار کو ختم کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں ہم خیال گروپ کا قیام اسی سمت ایک قدم قراردیا جاسکتاہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پرویز مشرف ایک غیر آئینی صدر ہیں اور ان کی اہلیت کا فیصلہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں بحال ہونے والی عدلیہ کرے گی۔ منگل کو میاں نواز شریف نے مسلم لیگ کی پنجاب کی مجلس عاملہ کے اراکین سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی اور پیپلز پارٹی کے درمیان عدلیہ کی بحالی کا ایک تحریری معاہدہ طے پاچکا ہے جس میں عدلیہ کی بحالی کا طریقہ کار بھی درج ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ ’یہ اجلاس ہم اس لیے بلارہے ہیں تاکہ مشرف صاحب کوبتادیں کہ دیکھوقومی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت بیٹھی ہے۔اب کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے۔‘ نواز شریف نے کہا کہ ’یہ کوئی جمالی کو وزیر اعظم بنانے کی بات نہیں ہے کہ اجلاس بلانے میں دو دو تین تین مہینے کی تاخیر کی جائے۔‘ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نئے اجلاس میں یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ کون کون سے گروپ اور کون کون سے آزاد امیدوار درحقیقت نئی مجوزہ مخلوط حکومت میں شامل ہورہےہیں اور کون اب صدر پرویز مشرف کے کیمپ میں رہ گیا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلد از جلد بلایا جائے۔ |
اسی بارے میں ’دو تہائی اکثریت ہے، اسمبلی کا اجلاس بلائیں‘26 February, 2008 | الیکشن 2008 پچیس ارکان نواز لیگ میں شامل26 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی درخواستیں، نتیجہ روکنے کا حکم26 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی:مزید حمایت حاصل کرنےکادعوٰی22 February, 2008 | الیکشن 2008 ’حلف مشرف کے ہاتھوں اٹھانا ہوگا‘22 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||