BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 March, 2008, 09:51 GMT 14:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرِاعظم کا اعلان اجلاس کے بعد

زرداری اور فہیم
چوہدری احمد مختار پیپلز پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے سیکورٹی چیکنگ کے دوران
جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے نو منتخب اراکین قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا اور آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کون ہوگا اس کا اعلان حکومت کے اجلاس طلب کرنے سے قبل کردیا جائے گا۔

اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم وہ شخص بنے جو پارٹی کے تمام اراکین کی خواہش کے مطابق ہو۔ ’اب میں نو منتخب اراکین اسمبلی کا ڈویژنل سطح کا مشاورتی اجلاس بلاؤں گا جس کے بعد پارٹی کی مجلس عاملہ وزیر اعظم کا اعلان کرے گی‘۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور عوامی نشنل پارٹی سے مرکزی حکومت میں شراکت اقتدار کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے اور تمام اتحادیوں میں وسیع تر معاملات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مسلم لیگ قاف کے سرکردہ رہنما حامد ناصر چٹھہ صدر پرویز مشرف یا مسلم لیگ کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں ان سے ملتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا کہ حامد ناصر چٹھہ ان سے ملنے کے بعد صدر پرویز مشرف سے بھی ملتے رہے ہیں اور ایسا تاثر مل رہا ہے کہ جیسے وہ آپ کے اور صدر کے درمیاں مصالحت کروا رہے ہیں، تو آصف علی زرداری نے کہا ’میں اگر اس بارے میں چٹھہ صاحب سے بات کرتا تو وہ اس وقت کرتا جب جیل میں تھا۔‘

جب ان سے قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت مبینہ بدعنوانی کے پانچ مقدمات کے خاتمے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہ اعتماد سازی نہیں ہے تو آصف زرداری نے کہا ’جب ہوا چلتی ہے تو بہت ساری چیزیں اس رخ پر چل پڑتی ہیں۔ کچھ روز پہلے شہباز شریف کا مقدمہ بھی ختم ہوا ہے اور میرے مقدمے تو عدالت نے ختم کیے ہیں‘۔

وزیر اعظم کا اعلان
 اب میں نو منتخب اراکین اسمبلی کا ڈویژنل سطح کا مشاورتی اجلاس بلاؤں گا جس کے بعد پارٹی کی مجلس عاملہ وزیر اعظم کا اعلان کرے گی
آصف زرداری

ایک سوال پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن نے بتایا کہ انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپنے ساتھیوں سے نئی حکومت کے چیلینجز اور ان سے نمٹنے کے بارے میں صلاح مشورے کیے ہیں۔

نئی حکومت کے چیلینجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’پارلیمان کو مضبوط کرنے، آئینی معاملات، ایوان صدر اور پارلیمان کے درمیان اختیارات کا توازن قائم کرنا، ججز کی بحالی، غربت اور بے روزگاری کم کرنا بڑے چیلینجز ہوں گے‘۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات میں تمام جماعتوں سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی حکومت سازی کے لیے مطلوبہ تعداد سے کہیں زیادہ اراکین کی حمایت ظاہر کرچکی ہے۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز اور عوامی نیشنل پارٹی مرکز میں مخلوط حکومت بنانے کا اعلان کرچکے ہیں۔

نواز شریف اور آصف زرداری
نواز لیگ پہلے ہی پیپلز پارٹی حکومت کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے

پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے مخدوم امین فہیم، مخدوم شاہ محمود قریشی، سید یوسف رضا گیلانی اور چودھری احمد مختار کے نام زیر غور رہے ہیں، تاہم بظاہر مخدوم امین فہیم کو سبقت حاصل رہی ہے۔

سات آزاد اراکین اسمبلی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد قومی اسمبلی کی دو سو بہتر عام نشستوں میں سے اب پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد پچانوے ہوچکی ہے۔

خواتین کی ساٹھ اور اقلیتوں کی دس نشستوں میں سے امکان ہے کہ پیپلز پارٹی کو ترتیب وار اکیس اور تین نشستیں مزید مل سکتی ہیں اور پھر تین سو بیالس اراکین کے ایوان میں پارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہوجائے گی۔

پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے والی مسلم لیگ نواز کے رہنما پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ حکومت کی حمایت تو کریں گے لیکن ان کی جماعت وزارتیں وغیرہ قبول نہیں کرے گی۔

جس کی بظاہر وجہ وہ صدر پرویز مشرف کا صدر ہونا بتا رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کا موقف ہے کہ پرویز مشرف متنازعہ صدر ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی جماعت کا کوئی شخص وزیر بن کر ان سے حلف اٹھائے۔

یاد رہے کہ صدر پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو مسلم لیگ نواز کی دو تہائی اکثریت والی حکومت برطرف کردی تھی۔

مسلم لیگ نواز کی نسبت پیپلز پارٹی کی صدر پرویز مشرف کے بارے میں نرم پالیسی ہے۔ قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت درج پانچ مقدمات ختم کردیے گئے ہیں اور دیگر مقدمات ختم کرنے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔

نئی مجوزہ حکومت کی دو بڑی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیاں صدر پرویز مشرف کی جانب سے برطرف کیے گئے ججوں کی بحالی کے بارے میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
زرداری کا ’مصالحتی کمیشن‘
28 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد