BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 08:15 GMT 13:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری کے خلاف کئی مقدمےختم

آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو
آصف زرداری کو دیگر مقدمات کے سلسلے میں برسوں تک جیل میں قید رکھا گیا
راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے خلاف پانچ مقدمات ختم کر کے ان کے اثاثہ جات بحال کر دیے ہیں۔

بدھ کے روز احستاب عدالت کی طرف سے جو مقدمات ختم کیے گئے ہیں ان میں ٹریکٹروں کی خریداری، وزیر اعظم ہاؤس میں پولو گراؤنڈ کی تعمیر، اثاثہ جات اور ایس جی ایس اور اے آر وائی گولڈ والے کیس شامل ہیں۔

آصف زرداری کے خلاف یہ مقدمات قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت ختم ہوئے ہیں۔ یہ آرڈیننس گزشتہ سال اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد کے موقع پر جاری کیا گیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں یہ دستاویز بینظیر بھٹو اور صدر پرویز مشرف کے درمیان ’ڈیل‘ کے بعد جاری ہوئی تھی۔

آصف زرداری کے خلاف دو مقدمات یعنی بی ایم ڈبلیو اور کوٹیکنا کی سماعت متعلقہ جج نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوسکی اور ان مقدمات کی سماعت بارہ مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔ واضح رہے کہ نیب کی عدالتیں پیپلز پارٹی کی چیرپرسن بنظیر بھٹو کا نام ان کی وفات کے بعد متعدد ریفرنس میں سے خارج کر چکی ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے سیکورٹی ایڈوائزر اور ایف ائی اے کے سابق ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل رحمان ملک کے خلاف گاڑیاں خریدنے کا مقدمہ بھی ختم کردیا ہے اور ان کے اثاثے بھی بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کے وکیل نے ان مقدمات کی فوری سماعت کے لیے عدالتوں میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔

نیب کی عدالت نمبر چار میں پانچ مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو بحال کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے بحال ہونے کے بعد نیب کے پاس اب کوئی جواز نہیں ہے کہ ان مقدمات کی تفتیش کے حوالے سے مزید وقت ضائع کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف مقدمات سیاسی رنجش کی بنیاد پر درج کیے گئے تھے۔

آصف زرداری
جیل میں آصف زرداری پر تشدد کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں

عدالت نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالقار بھٹہ سے پوچھا کہ کیا وہ ان مقدمات کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں یا انہیں اس حوالے سے کوئی ہدایات ملی ہیں جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب کو یہ مقدمات ختم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی عدالت نے ان کے مؤکل کے خلاف سات مقدمات میں سے پانچ مقدمات ختم کردیے ہیں اور ان کے اثاثہ جات بحال کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران پیپلز پارٹی کی مرحوم چئرپرسن بنظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف دائر مقدموں میں سے ایک بھی مقدمہ ثابت نہیں کر سکی۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے ان کے مؤکلوں کے خلاف مقدمات ثابت کرنے کے لیے دنیا بھر سے نامور وکیل کیے جس پر سرکاری خزانے سے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔

آصف علی زرداری کے وکیل نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ اکیس مارچ تک آصف علی زرداری اور بنظیر بھٹو کے خلاف بیرون ممالک میں دائر کیے گئے مقدمات ختم کردیے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آصف علی زرداری نے ان ختم ہونے والے مقدمات میں ساڑھے آٹھ سال جیل میں گزارے ہیں تو کیا وہ حکومت کے خلاف کوئی مقدمہ دائر کروائیں گے تو فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ آصف علی زرداری ہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو کو ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ حکومتوں نے اس کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا ہے۔

واضح رہے کہ معذول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے قومی مفاہمتی آرڈنیننس پر حکم امتناعی جاری کیا تھا جس پر اس آرڈنیننس پر علمدرامد رک گیا تھا تاہم پی سی او کے معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ نے اس آرڈنیننس پر حکم امتناعی واپس لے لیا تھا اور ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی تھی کہ اس آرڈنیننس کے تحت جتنے بھی مقدمات ہیں ان کو فوری طور پر نمٹایا جائے۔

نیبکون کون بچ سکتا ہے
مصالحتی آرڈیننس سے کسے فائدہ ہو رہا ہے؟
بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف’مصالحت کا قانون‘
ماہرینِ قانون کی مصالحتی آرڈیننس پر رائے منقسم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد