زرداری کا ’مصالحتی کمیشن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے ملک میں’ریاستی جبر اور ناانصافی‘ کا نشانہ بننے والے لوگوں کی داد رسی کے لیے ’ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیئیشن‘ یعنی سچائی اور مصالحتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے جمعرات کو صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اپنی جماعت کے ہارنے والے امیدواروں سے خطاب میں کیا۔ ان کے مطابق یہ کمیشن ریاستی جبر کے متاثرہ افراد کی عزت نفس بحال کرے گا۔ آصف علی زرداری نے اپنے اراکین سے خطاب میں بلوچستان کے عوام پر مبینہ ریاستی جبر و تشدد پر معافی مانگنے کے بارے میں دو روز قبل جاری کردہ اپنے بیان کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کا مقصد بھی متاثرہ افراد کی داد رسی اور ان کی عزت نفس کی بحالی ہی ہے۔ واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں جہاں بلوچستان اور سندھ سے سینکڑوں قوم پرست سیاسی کارکنوں کے مبینہ طور پر خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے کا معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا وہاں سخت گیر مذہبی سوچ کے حامل بیسیوں لاپتہ افراد کے اہل خانہ بھی آج تک احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لاپتہ افراد کے اہل خانہ صدر پرویز مشرف پر ماورائے آئین و قانون اقدامات کا الزام لگاتے رہے ہیں اور ان کا دعوٰی ہے کہ ان کے عزیزوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد سے ہارنے والے امیدواروں سے آصف علی زرداری کے خطاب کے حوالے سے پارٹی ترجمان فرحت اللہ بابر نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ آصف علی زرداری نے یہ بھی واضح طور پر کہا ہے کہ پارلیمان کو اسٹیبلشمنٹ کے ماتحت بنانے والی تمام آئینی ترامیم ختم کردی جائیں گی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین نے مزید کہا ہے کہ پاکستان میں پارلیمان کی بالادستی، آزاد اور مستحکم عدلیہ کا قیام مضبوط جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر جانبدار ججوں کی بحالی اور عدلیہ کو مالی طور پر خود مختار کرنے کے لیے ان کی جماعت پہلے ہی ایوان بالا سینیٹ میں ایک بل پیش کر چکی ہے۔ | اسی بارے میں ’معافی نمک پاشی کے مترادف ہے‘26 February, 2008 | پاکستان معافی مانگنا مثبت ہے: قوم پرست25 February, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان پی پی پی:سب کی طرف سے بلوچوں سےمعافی 24 February, 2008 | پاکستان زرداری کے خلاف تفتیش پر زور20 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||