BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 March, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قرارداد سے ججز بحال نہیں ہوسکتے‘

صدر مشرف
وزیر اعظم سیکریٹریٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق سمری ایوان صدر بھیج دی گئی ہے
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے معزول ججوں کی بحالی کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کے لیے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے قانونی مشیروں سے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں ہونے والے اس غیر رسمی اجلاس میں نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو کے علاوہ کئی دیگر اعلٰی حکام شریک ہیں۔

خیال ہے کہ اس اہم اجلاس میں نئی مخلوط حکومت کی جانب سے تیس دن میں عدلیہ کی بحالی کے عزم اور اس کے قانونی پہلووں پر غور ہو رہا ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے بھی امور زیر بحث ہیں۔

وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں سرکاری حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق سمری دو پہر کے بعد ایوان صدر کو ارسال کر دی ہے۔ وزیر اعظم دو پہر میں اسلام آباد واپس لوٹے ہیں جس کے بعد ہی سمری آگے روانہ کی گئی ہے۔ تاہم ابھی واضح نہیں کہ صدر اجلاس کب طلب کرتے ہیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ وہ دس سے پندرہ روز میں اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔

 وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں سرکاری حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق سمری دو پہر کے بعد ایوان صدر کو ارسال کر دی ہے۔

وزیر اعظم سیکریٹریٹ نے گزشتہ سنیچر وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے اسمبلی اجلاس طلب کرنے سے متعلق ایک سمری موصول ہونے کی تصدیق کی تھی۔ آئینی ماہرین کے مطابق صدر پر اجلاس طلب کرنے سے متعلق کسی وقت کا تعین نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اتوار کو نئی وفاقی حکومت کی تشکیل کے ایک ماہ کے اندر پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعےعدلیہ کوگزشتہ برس دو نومبر کی حالت میں بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصدکے لیے دونوں جماعتوں کے قائدین نے ’اعلان مری‘ پر دستخط کر دیے تھے۔

اس اعلان کے بعد معزول ججوں سے متعلق ایک مرتبہ قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔ اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ججوں کی برطرفی کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور وہ ایک قرار داد کے ذریعے بحال نہیں کیے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرار داد سے کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے معزول ججوں سے متعلق اعلان کر کے اپنے پتے سامنے رکھ دیے ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صدر پرویز مشرف کو اپنا ردعمل تیار کرنے میں اب آسانی ہوگی۔

جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
نواز اور آصفحکومت سازی
پی پی پی اور مسلم لیگ نواز کی مشکلات
اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد