BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 March, 2008, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرکز: وزارتوں کی تقسیم پر اتفاق

فائل فوٹو
پیپلز پارٹی کے حلیف جماعتوں میں ملسم لیگ نون، اے این پی اور جٹعیت علمائے اسلام شامل ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نواز، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے مابین مرکز میں وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا طے پاگیا ہے تاہم اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

منگل کو پارلیمینٹ ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے نمائندوں کے مابین مذاکرات ہوئے جو ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہے۔

بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں کے رہنماؤں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کہ فارمولے کے تحت کس جماعت کے حصے میں کتنی اور کون کون سی وزارتیں آئیں گی۔

 سلم لیگ نون کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ چند ایسے بنیادی نکات تھے جن کی تمام جماعتوں کو اپنی اپنی قیادت سے منظوری لینا ضروری تھا اس لیے حلیف جماعتوں کے نمائندے اپنی اپنی قیادتوں سے منظوری لے کر منگل کو ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوئے اور ان کے بقول ’پندرہ منٹ میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوگئے‘

تاہم اطلاعات کے مطابق مجوزہ فارمولے میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ہر جماعت کو قومی اسمبلی کی چھ چھ سیٹوں پر ایک ایک وزارت دی جائے گی۔
مذاکرات کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ چند ایسے بنیادی نکات تھے جن کی تمام جماعتوں کو اپنی اپنی قیادت سے منظوری لینا ضروری تھا اس لیے حلیف جماعتوں کے نمائندے اپنی اپنی قیادتوں سے منظوری لے کر منگل کو ہونے والے مذاکرات میں شریک ہوئے اور ان کے بقول ’پندرہ منٹ میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوگئے۔‘

انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے جو حکومت بنے گی اس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، اے این پی اور جے یو آئی (ف) کے وزراء شامل ہوں گے۔

لیکن مذاکرات میں شامل پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ سے مرکز میں وزارتوں کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ’ابھی تو ہم ایک فارمولا طے کررے ہیں اور آگے بھی مذاکرات ہوتے رہیں گے شاید اتنے اعلی سطح کے نہ ہوں لیکن ہمارا ایک ورکنگ گروپ بن چکا ہے۔‘

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ کابینہ زیادہ بڑی نہیں ہوگی۔ ’یہ ویسے تو وزیر اعظم کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ کتنی بڑی کابینہ بنائے لیکن ایک سیاسی پیغام ہم ضرور دینا چاہیں گے کہ کابینہ کوئی زیادہ بڑی نہ ہو۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ کابینہ زیادہ بڑی نہیں ہوگی۔ ’یہ ویسے تو وزیر اعظم کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ کتنی بڑی کابینہ بنائے لیکن ایک سیاسی پیغام ہم ضرور دینا چاہیں گے کہ کابینہ کوئی زیادہ بڑی نہ ہو۔‘

دوسری جانب پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ کی مشاورتی کمیٹیوں کا بھی ایک اجلاس منگل کو اسلام آباد میں ہوا جس میں بلوچستان میں حکومت سازی کے متعلق امور پر بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس سلسلے میں تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے طے کیے جائیں گے اور بات چیت کا ایک اور دور بدھ کو ہوگا۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی نے ابھی تک وزارت عظمی کے امیدوار کی نامزدگی کا اعلان نہیں کیا ہے، پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے آج بھی اپنی رہائشگاہ پر احمد مختار، فرزانہ راجہ، فیصل کریم کنڈی اور دوسرے پارٹی ساتھیوں سے ملاقاتیں کیں لیکن خود کو وزات عظمی کے مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کرنے والے مخدوم امین فہیم کی آج ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ البتہ سپیکر کے عہدے کے لیے سندھ کی نومنتخب رکن اسمبلی ؟اکٹر فہمیدہ مرزا کی نامزدگی کے بعد یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ وزارت عظمی کا امیدوار پنجاب سے ہوگا۔

زرداری ہاؤسزرداری ہاؤس
اسلام آباد کا مصروف ترین گھر
ہوٹل(فائل فوٹو)ہوٹل بُک ہوگئے
نومنتخب ارکان کیلیے ہوٹلوں کی بکنگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد