BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فہمیدہ سپیکر، فیصل ڈپٹی سپیکر

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا
ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پاکستان کی پہلی خاتون سپیکر قومی اسمبلی ہوں گی
پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سپیکر اور فیصل کریم کنڈی نے ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے منگل کو کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

پاکستان مسلم لیگ قاف اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سپیکر کے لیے سردار اسرار ترین جبکہ ڈپٹی سپیکر کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخت شجاعت نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔


قومی اسمبلی کے سولویں سپیکر کے انتخاب کے لیے بدھ انیس مارچ کی صبح ووٹنگ ہوگی۔ جس کے بعد نو منتخب سپیکر کی صدارت میں ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کرایا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کو اس وقت دو سو تیس اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ سپیکر کے انتخاب کے لیے ایک سو بہتر اراکین کی حمایت درکار ہے۔

کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فہمیدہ مرزا نے کہا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے اتحادوں کو ساتھ لے کر ایوان کی کارروائی چلائیں گی۔

’پاکستان کے حالات ہیں مجھ پر جو بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے اسے اپنے ساتھیوں کی مدد سے نبھاؤں گی۔‘

آصف زرداری
یہ جمہوریت کی طرف پہلا قدم ہے: آصف زرداری

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی پہلی خاتون سپیکر ہوں گی۔ فہمیدہ مرزا کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بدین سے ہے اور وہ تیسری بار رکن اسبملی منتخب ہوئی ہیں۔ انہوں نے لیاقت میڈیکل کالج حیدر آباد سے ایم بی بی ایس کی سند حاصل کر رکھی ہے۔

ان کا تعلق حیدرآباد کی اخباری صنعت سے وابسطہ قاضی خاندان سے ہے اور وہ ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کی اہلیہ ہیں۔ ذوالفقار مرزا رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور ان کا شمار آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے۔

بیریسٹر فیصل کریم کنڈی مولانا فضل الرحمٰن کو ڈیرہ اسماعیل خان سے شکست دے کر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ فیصل کریم کے والد فضل کریم کنڈی نے بھی انیس سو نوے میں مولانا فضل الرحمٰن کو شکست دی تھی۔
مسلم لیگ (ق) کے سردار اسرار ترین بلوچستان کے حلقہ 263 جو کہ لورالائی، موسیٰ خیل اور بارکھان کے علاقوں پر مشتمل ہے، منتخب ہوئے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے سردار یعقوب خان ناصر کو شکست دی ہے۔

جبکہ ڈپٹی سپیکر کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی متحدہ قومی موومنٹ کی خوش بخت شجاعت کراچی کے حلقہ دو سو پچاس سے منتخب ہوئیں۔ان کے حلقہ کے نتائج چیلنج ہوئے اور ہارنے والے پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ نے تئیس پولنگ سٹیشن پر دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نو منتخب قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے اکاون جبکہ متحدہ قومی موومینٹ کے پچیس اراکین ہیں۔

مسلم لیگ فنکشنل کے پانچ اراکین قومی اسمبلی ہیں جو مرکز میں ابھی حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ نہیں کر پائے۔ اس جماعت کے پنجاب سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی میاں شہباز شریف کی غیر مشروط حمایت کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کے لیے صوبہ سندھ سے نامزدگی کے باعث یہ واضح اشارے مل رہے ہیں کہ وزیر اعظم صوبہ پنجاب سے ہو گا اور سید یوسف رضا گیلانی کا نام اس وقت سرفہرست ہے۔

اس سے قبل پیر کو پارلیمانی تاریخ کے سخت ترین حفاظتی انتظامات میں پاکستان کی نو منتخب قومی اسمبلی کے اراکین نے حلف اٹھالیا ہے۔

سابقہ قومی اسمبلی کے سپیکر چودھری امیر حسین نے انیس سو تہتر کے آئین کے تحت نو منتخب اراکین سے حلف لیا۔

وزارتِ اعظمیٰ کے ممکنہ امیدوار
مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، چوہدری احمد مختار


حلف لینے سے پہلے پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے سپیکر سے یہ وضاحت مانگی کے اراکین 1973 کے آئین کے تحت ہی حلف اٹھا رہے ہیں۔ اس پر سپیکر چوھدری امیر حسین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلف انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق ہی ہے اور اس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما بیان دیتے رہے ہیں کہ تین نومبر کو صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین معطل کرنے کے بعد جو احکامات جاری کیے ہیں وہ آئین کا حصہ ہیں اور صدر کے پی سی او والے آئین کے تحت حلف ہوگا۔ تاہم آج سپیکر کی وضاحت کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ صدر پرویز مشرف کے تین نومبر سن دو ہزار سات عبوری آئینی حکم کو ابھی پارلیمان سے منظوری حاصل کرنی ہوگی۔

تین سو بیالیس اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی کے ایوان میں پیر کو تین سو چونتیس اراکین کو حلف کی دعوت دی گئی کیونکہ قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر ابھی انتخاب باقی ہے جبکہ پانچ حلقوں سے منتخب اراکین کے نتائج عدالتوں نے روکے ہوئے ہیں۔

ایوان میں اراکین کو حروف تہجی کے اعتبار سے نشستیں فراہم کی گئیں اور اُسی اعتبار سے تمام اراکین نے حلف برداری کے بعد ’رول آف میمبرز، پر دستخط کیے۔

اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد