گیلانی وزارتِ عظمٰی کے لیے نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی نے سابق سپیکر قومی اسمبلی یوسف رضا گیلانی کو ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے نامزد کیا ہے۔ ان کی نامزدگی کا اعلان پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے زرداری ہاؤس کے باہر ایک پریس کانفرنس میں کیا جبکہ پہلے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود وزیراعظم کا اعلان کریں گے۔ فرحت اللہ بابر نے پریس کانفرنس میں جماعت کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا ایک بیان پڑھ کر سنایا جس میں مخدوم یوسف رضا گیلانی کو پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمٰی کا امیدوار نامزد کیا گیا۔ آصف علی زرداری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس نامزدگی کی تصدیق کی اور کہا کہ’ہماری جماعت کے سپیکر نے دو سو انچاس ووٹ حاصل کیے اور اب وزیراعظم پونے تین سو سے زیادہ ووٹ حاصل کرے گا‘۔ آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ ’اب تو ایم کیو ایم نے بھی ہماری جماعت کے امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے اور اپنے امیدوار فاروق ستار کو دستبردار کر لیا ہے‘۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار تئیس مارچ کو اتوار کی دوپہر تک اپنا نامزدگی فارم قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرائیں گے۔ صدر پرویز مشرف نے نو منتخب قومی اسمبلی کا نیا قائد ایوان منتخب کرنے کے لیے چوبیس مارچ کی شام چار بجے اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں قائد ایوان یعنی وزیراعظم کا انتخاب ہوگا۔ نومنتخب وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ پچیس مارچ کی صبح گیارہ بجے ایوان صدر میں حلف اٹھائےگا اور صدر پرویز مشرف ان سے حلف لیں گے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے مخدوم امین فہیم، سید یوسف رضا گیلانی، مخدو شاہ محمود قریشی اور چودھری احمد مختار کے نام وزیر اعظم کے لیےگردش کرتے رہے لیکن آخر کار قسمت کی دیوی یوسف رضا پر ہی مہربان ہوئی۔ وزیراعظم کی نامزدگی میں تاخیر کے سوال پر شریک چیئرمین اور سینئر پارٹی رہنما مخدوم امین فہیم کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوئے جو تاحال بظاہر ختم نہیں ہو سکے ہیں۔ وزیراعظم کے نام کے انتخاب کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے اپنی جماعت کے نومنتخب اراکین سے ڈویژنل سطح تک مشاورت کی اور بیشتر اراکین نے انہیں اختیار سونپا کہ جو بھی پارٹی اور ملک کے مفاد میں وہ فیصلہ کریں گے وہ انہیں قبول ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق یوسف رضا گیلانی چند ماہ کے لیے نہیں بلکہ طویل مدت کے لیے وزیراعظم بنے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم کے لیے نامزد کیے جانے کے بارے میں پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک تو وہ پارٹی کے سینئر رہنما ہیں اور انہوں نے دکھ سکھ میں پارٹی کا ساتھ نبھایا، دوسرا یہ کہ ان کا تعلق سرائیکی علاقے سے ہے اور سرائیکی بیلٹ سے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے ملنے والی زیاد تر نشستیں انہیں اس علاقے سے ہی حاصل ہوئیں اور تیسرا یہ کہ وہ آصف علی زرداری کے ساتھ کئی ماہ اکٹھے جیل میں بھی رہے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی پر بطور سپیکر اختیارات کے غلط استعمال کے الزمات کے تحت مقدمہ بنا تھا اور وہ دو برس سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے کل تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں سے دس حلقوں کے نتائج عدالتوں نے روکے ہوئے ہیں یا پھر وہاں اٹھارہ فروری کو انتخابات نہیں ہوئے۔موجود ایوان میں تین سو چونتیس اراکین ہیں جس میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک سو اکیس، مسلم لیگ (ن) کی 89 ، (مسلم لیگ (ن) نے اکانوے نشستیں جیتیں لیکن جاوید ہاشمی تین نشستوں سے جیتے اور انہوں نے دو نشستیں خالی کردی ہیں) عوامی نیشنل پارٹی کی تیرہ اور جمیعت علما اسلام (ف) کی چھ نشستیں ہیں اور اب ان کے ساتھ پچیس اراکین والی ایم کیو ایم بھی مل گئی۔ سپیکر کے الیکشن میں پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے کل دو سو انیس ووٹ تھے لیکن انہیں دو سو انچاس ووٹ ملے جن میں سے بیشتر آزاد اراکین تھے جنہوں نے عین وقت پر ان کی حمایت کی۔ اب ایم کیو ایم کے ووٹ شامل ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 276 ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے زیادہ ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ ادھر سابقہ حکومتی جماعت مسلم لیگ (ق) جس نے پہلے ایم کیو ایم کے فاروق ستار کی وزیراعظم کے لیے حمایت کی تھی اب ان کے سربراہ چودھری شجاعت نے اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ وہ اپنے نئے امیدوار کا اعلان اتوار کو کرے گی۔ خیال ہے کہ مسلم لیگ (ق) کی طرف سے چودھری پرویز الہی وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے۔ |
اسی بارے میں فاروق ستار: غیر مشروط دستبرداری 21 March, 2008 | پاکستان ’شدت پسندوں سے مذاکرات کریں گے‘22 March, 2008 | پاکستان متحدہ غیر مشروط حمایت: زرداری21 March, 2008 | پاکستان بلوچستان:ق لیگ پی پی پی کی حامی21 March, 2008 | پاکستان پارلیمان اور صدر کا ابتدائی محتاط رویہ20 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||