BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 March, 2008, 15:14 GMT 20:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:ق لیگ پی پی پی کی حامی

 نواب اسلم رئیسانی
پیپلز پارٹی نے نواب اسلم رئیسانی کو وزیراعلٰی کا امیدوار نامزد کیا ہے
بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی قاف لیگ اور دیگر تمام جماعتیں ایک ہو گئی ہیں جبکہ آزاد اراکین نے کہا ہے کہ حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود وہ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور کرپشن کی تحقیقات کے لیے آواز بلند کریں گے۔

جمعہ کو کوئٹہ میں قاف لیگ کے دیگر اراکین نے پارلیمانی لیڈر اور رکن صوبائی اسمبلی جعفر مندوخیل اور سینیٹر سعید ہاشمی کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا جس کے بعد اس وقت تریسٹھ ارکان کے ایوان میں پیپلز پارٹی کو باسٹھ اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

سعید ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ قائد اعظم کے تمام نو منتخب اراکین کی طرف سے نواب اسلم رئیسانی کی حمایت کرتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارت اعلٰی کے امیدوار نواب اسلم رئیسانی نے مسلم لیگی اراکین کے ساتھ مشترکہ اخباری کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ’انسان خطا کا پتلا ہے‘۔

یاد رہے کہ قاف لیگ نے بلوچستان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن حکومت سازی میں ناکامی کے بعد اس کے ارکان نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

یاد رہے نواب اسلم رئیسانی اور آزاد اراکین کے لیڈر سردار اسلم بزنجو نے کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھیں گے جو بلوچستان میں فوجی آپریشن میں ملوث تھے لیکن اب قاف لیگ پیپلز پارٹی کی حمایتی بن گئی ہے۔

اس بارے میں آزاد اراکین کے سربراہ سردار اسلم بزنجو سے پوچھا گیا توانہوں نے کہا کہ جام یوسف اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ جہاں اسلم بزنجو ہوگا وہ ادھر کبھی نہیں جائیں گے اور اب جب آ گئے ہیں تو وہ اسمبلی میں یہ بات ضرور اٹھائیں گے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن اور میگا کرپشن کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ بلوچستان کی مالی بدحالی کا ذمہ دار کون ہے۔

یاد رہے کہ تیرہ مارچ کو پیپلز پارٹی نے سابق حکومت میں شامل مسلم لیگ قائداعظم کے دس، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سات اور جمعیت علماء اسلام کے دس ارکان سمیت سات آزاد، تین عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی پارلیمنٹیرینز اور جمعیت علماء اسلام کے نظریاتی دھڑے کے ایک رکن سمیت پچپن اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کی تعداد آٹھ ہے۔

اسی بارے میں
پی پی کا اکثریت کا دعویٰ
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد