فاروق ستار: غیر مشروط دستبرداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی خواہش پر متحدہ قومی موومنٹ نے اصولی طور پر ڈاکٹر فاروق ستار کو وزارت عظمٰی کے انتخاب سے دستبردار کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس بارے میں ایم کیو ایم سنیچر کو اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے گی۔ متحدہ قومی موومنٹ نے یہ فیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا ہے۔ متحدہ کے رہنما اور رکن اسمبلی فیصل سبزواری نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری لندن میں پارٹی کے سربراہ الطاف حسین سے بات کی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ آصف زرداری نے جمعہ کو دوبارہ ٹیلیفون پر الطاف حسین سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل اور قومی مفاہمت کے پیش نظر ڈاکٹر فاروق ستار کو غیر مشروط طور پر دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے، اس لیے ان جماعتوں کو بھی اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا اور ڈاکٹر فاروق ستار سنیچر کو ان سے ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے، ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الطاف حسین انتخابات سے قبل اور نتائج کے بعد حکومت بنانے والی جماعتوں کی مثبت اقدمات کی غیر مشروط حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا امن پورے ملک کے امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، یہاں پُرامن ماحوال رکھنا اور استحکام رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے جمعہ کو متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین سے فون پر حکومت سازی میں تعاون پر بات چیت کی۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم غیر مشروط طور پر ان کی جماعت کے وزیراعظم کو ووٹ دے گی جس کے بعد مرکز اور صوبہ سندھ میں بننے والی حکومتوں میں انہیں شامل کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے بتایا کہ تمام اتحادی جمعاتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا تھا ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جن مشکلات کا شکار ہے ان میں سے اسے نکالنا ہے، اس کے لیے پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم سب مل کر ساتھ بیٹھیں گے تو کراچی میں امن بھی رہے گا اور کراچی کا تاجر اور صنعتکار مطمئن رہے گا۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ نئی صنعتیں پورٹ شہروں میں لگنے سے ان شہروں کی ترقی ہو گی اور اس کے لیے سیاسی نیت کی ضرورت ہے اس لیے کراچی کے مینڈیٹ کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور نو منتخب اراکین اسمبلی نے متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت میں شامل کرنے کی شدید مخالفت کی تھی، بعد میں پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ سے مذاکرات کے لیے پارٹی کے نامزد وزیراعلیٰ سید قائم علی شاھ کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جو کسی پیش رفت میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ |
اسی بارے میں آصف زرداری: بادشاہ یا بادشاہ گر21 March, 2008 | پاکستان قائد ایوان کا انتخاب 24 مارچ کو20 March, 2008 | پاکستان ایم کیوایم، قاف لیگ کا اتحاد برقرار02 March, 2008 | پاکستان اعلانِ مری پر مِلا جلا رد عمل09 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||